سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 571 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 571

سیرت المہدی 571 حصہ سوم 606 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی عبد العزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت میرے دل میں شہتوت کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔مگر میں نے اس خواہش کا کسی کے سامنے اظہار نہ کیا۔اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ آج ہم باغ کی طرف سیر کے لئے جائیں گے۔چنانچہ اسی وقت چل پڑے۔باغ میں دو چار پائیاں بچھی ہوئی تھیں۔باغ کے رکھوالے دو بڑے ٹوکرے شہتوتوں سے بھرے ہوئے لائے اور حضور کے سامنے رکھ دیئے۔سب دوست چار پائیوں پر بیٹھ گئے۔بے تکلفی کا یہ عالم تھا۔کہ حضور پائینتی کی طرف بیٹھے ہوئے تھے اور دوست سرہانے کی طرف۔سب دوست شہتوت کھانے لگے۔حضور نے میر ناصر نواب صاحب مرحوم سے فرمایا۔کہ میر صاحب! شہتوت میاں عبدالعزیز کے آگے کریں۔چنانچہ کئی مرتبہ حضور نے یہی فرمایا۔حالانکہ میں کھا رہا تھا۔پھر بھی حضور نے ٹوکرا میرے آگے کرنے کی بار بار تاکید فرمائی۔میں شرمندہ ہو گیا۔کہ شاید حضور کو میری خواہش کاعلم ہو گیا ہے۔607 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب ساکن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ جب کبھی کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو السّلام علیکم کہتا تھا تو حضورعموماً اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھتے اور محبت سے سلام کا جواب دیتے۔608 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ڈاکٹر محمد عمر صاحب لکھنوی جب لاہور میں پڑھتے تھے تو ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے اور کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔بعد میں کسی نے عرض کیا۔کہ حضور ان کی داڑھی منڈھی ہوئی تھی۔حضور نے بڑے تعجب سے فرمایا: اچھا کیا ان کی داڑھی منڈی ہوئی تھی ؟ ہم نے غور نہیں کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو آنکھ اُٹھا اٹھا کر تاڑنے کی عادت نہیں تھی۔اور داڑھی کے متعلق عموماً فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو پہلے ایمان کا فکر ہوتا ہے۔اگر ایمان درست اور کامل ہو جائے تو یہ کمزوریاں خود بخو دور ہو جاتی ہیں۔جو شخص اسلام کو سچا جانتا ہے اور ہمیں دل سے صادق سمجھتا ہے اور جانتا