سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 570
سیرت المہدی نکل گیا۔570 حصہ سوم اس قصہ کے بیان کرنے سے حضرت صاحب کا مطلب یہ تھا۔کہ انسان اگر شیعوں والے عقائد اختیار کرے گا تو اس کا لازمی اور آخری نتیجہ یہ ہے کہ اہل بیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ تک کو ترک کرنا پڑے گا اور ان سے بدظنی کرنی پڑے گی۔سوایسا مذ ہب بالبداہت باطل ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے بھی حضرت صاحب سے یہ روایت سنی ہوئی ہے۔حضرت صاحب جب یہ روایت فرماتے تھے تو بہت ہنستے تھے اور جب اس شیعہ کی زبانی عداوت رکھنے کا ذکر فرماتے تھے تو بعض اوقات انگلی کے اشارے سے فرمایا کرتے تھے کہ بس اتنی سی عداوت فلاں سے بھی چاہئے اور اتنی سی فلاں سے۔604 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی مرحوم کا نام اصل میں کریم بخش تھا۔حضرت صاحب نے ان کا یہ نام بدل کر عبدالکریم رکھ دیا۔میں نے اس تبدیلی کے بہت دیر بعد بھی مولوی صاحب مرحوم کے والد صاحب کو سُنا کہ وہ انہیں کریم بخش ہی کہہ کر پکارتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عربی ترکیب کے نام زیادہ پسند تھے۔605 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتابوں کی کاپی اور پروف خود دیکھا کرتے تھے۔اور جب کوئی عربی کتابیں لکھتے۔تو وہ خود بھی دیکھتے تھے اور بعض علماء کو بھی دکھانے کا حکم دیدیا تھا۔چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم تو عربی اور فارسی کتب کے تمام پروف بطور ایک صبح کے بالاستیعاب دیکھتے تھے۔ایک دفعہ ایک عربی کتاب کی بابت فرمایا۔کہ اس کے پروف مولوی عبدالکریم صاحب کے دیکھنے کے بعد مولوی نورالدین صاحب کو بھی دکھائے جایا کریں۔کسی نے عرض کیا کہ اس کی کیا ضرورت ہے؟ فرمانے لگے۔مولوی صاحب ہماری کتابیں کم پڑھتے ہیں۔اس طرح ان کی نظر سے گذر جائیں گی۔