سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 546 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 546

سیرت المہدی 546 حصہ سوم پڑھتے۔ہاتھ سینے پر باندھتے۔دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو سہار لیتے۔آمین آہستہ پڑھتے تھے۔رفع یدین کرتے تھے۔رفع سبابہ یاد نہیں۔مگر اغلبا کرتے تھے۔تہجد میں دورکعت وتر جد اپڑھتے اور پھر سلام پھیر کر ایک رکعت الگ پڑھتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ میرے علم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رفع یدین نہیں کرتے تھے اور مجھے حضرت صاحب کا رفع سبابہ کرنا بھی یاد نہیں۔گو میں نے بعض بزرگوں سے سنا ہے کہ آپ رفع سبابہ کرتے تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب اپنی تحریرات میں حضرت صاحب کا عموماً حضرت احمد علیہ السلام کے الفاظ سے ذکر کرتے ہیں۔اس لئے میں نے ان کی روایت میں وہی قائم رکھا ہے۔اور یہ جو قاضی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں سے سہارا دیتے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ جوانی کے زمانہ میں آپ کا دایاں ہاتھ ایک چوٹ لگنے کی وجہ سے کمزور ہو گیا تھا۔اور اسے سہارے کی ضرورت پڑتی تھی۔565 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ بمقام گورداسپور ۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بخار تھا۔آپ نے خاکسار سے فرمایا کہ کسی جسیم آدمی کو بلاؤ جو ہمارے جسم پر پھرے۔خاکسار جناب خواجہ کمال الدین صاحب وکیل لاہور کو لایا۔وہ چند دقیقہ پھرے۔مگر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کا وجود چنداں بوجھل نہیں کسی دوسرے شخص کو لا ئیں۔شاید حضور نے ڈاکٹر محمد اسمعیل خان صاحب دہلوی کا نام لیا۔خاکساران کو بلا لا یا۔جسم پر پھر نے سے حضرت اقدس کو آرام محسوس ہوا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ کیفیت اعضاء شکنی کے وقت کی ہوگی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ خواجہ صاحب اور ڈاکٹر صاحب مرحوم ہر دو نہایت بھاری جسم کے تھے۔شاید کم و بیش چار چارمن کے ہو نگے۔اور ڈاکٹر صاحب کسی قدر زیادہ وزنی تھے۔اور ان کا قد بھی زیادہ لمبا تھا۔گوویسے خواجہ صاحب بھی اچھے خاصے لمبے تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب نے جو ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب کو دہلوی لکھا ہے یہ