سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 545 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 545

سیرت المہدی 545 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا علی شیر کو میں نے دیکھا ہے۔بہت مشرع صورت تھی اور ہاتھ میں تسبیح رکھتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت مخالف تھے۔ان کی لڑکی عزت بی بی ہمارے بھائی مرزا فضل احمد کے عقد میں آئی تھی اور وہ بھی اوائل عمر میں سخت مخالف تھی مگر اب چند سال سے سلسلہ میں داخل ہیں۔562 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ عبد المحي حب عرب نے مجھ سے ایک روز حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ہی ذکر کیا کہ حضرت صاحب کی سخاوت کا کیا کہنا ہے۔مجھے کبھی آپ کے زمانہ میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔جوضرورت ہوتی۔بلا تکلف مانگ لیتا اور حضور میری ضرورت سے زیادہ دے دیتے اور خود بخود بھی دیتے رہتے۔جب حضور کا وصال ہو گیا تو حضرت خلیفہ اول حالانکہ وہ اتنے بھی مشہور ہیں میری حاجت براری نہ کر سکے۔آخر تنگ ہو کر میں نے ان کو لکھا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ تو بن گئے۔مگر میری حاجات پوری کرنے میں تو ان کی خلافت نہ فرمائی۔حضرت صاحب تو میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا کرتے تھے۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے میری امداد کی۔مگر خدا کی قسم ! کہاں حضرت صاحب اور کہاں یہ۔ان کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔563 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول سخت بیمار ہو گئے۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب وہ حضور کے مکان میں رہتے تھے۔حضور نے بکروں کا صدقہ دیا۔میں اس وقت موجود تھا۔میں رات کو حضرت خلیفہ اول کے پاس ہی رہا اور دواء پلاتا رہا۔صبح کو حضور تشریف لائے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ حضور! ڈاکٹر صاحب ساری رات میرے پاس بیدار رہے ہیں اور دوا وغیرہ اہتمام سے پلاتے رہے ہیں۔حضور علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ ہم کو بھی ان پر رشک آتا ہے۔یہ بہشتی کنبہ ہے۔یہ الفاظ چند بار فرمائے۔564 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پیشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے حضرت احمد علیہ السلام کو بار ہا نماز فریضہ اور تہجد پڑھتے دیکھا۔آپ نماز نہایت اطمینان سے