سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 522 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 522

سیرت المہدی 522 حصہ سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت ہو کر جانے لگتے اور دعا کے لئے عرض کرتے تو حضرت صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے کہ آپ گاہ بگاہ خط کے ذریعہ سے یاد دہانی کراتے رہیں۔میں انشاء اللہ دعا کرونگا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض دوستوں کی عادت تھی۔کہ حضور کی خدمت میں دُعا کے لئے قریباً روزانہ لکھتے تھے۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ لاہور کے ایک دوست کو کوئی کام در پیش تھا۔جس پر انہوں نے مسلسل کئی ماہ تک ہر روز بلا ناغہ حضور کی خدمت میں دُعا کے لئے خط لکھا۔511 بسم الله الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ یعنی امّ المؤمنين أَطَالَ اللهُ بَقَالَهَا نے مجھے سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ مرزا نظام الدین صاحب کو سخت بخار ہوا۔جس کا دماغ پر بھی اثر تھا۔اس وقت کوئی اور طبیب یہاں نہیں تھا۔مرزا نظام الدین صاحب کے عزیزوں نے حضرت صاحب کو اطلاع دی آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور مناسب علاج کیا۔علاج یہ تھا کہ آپ نے مُرغا ذبح کرا کے سر پر باندھا۔جس سے فائدہ ہو گیا۔اس وقت باہمی سخت مخالفت تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہوگی ورنہ آخری زمانہ میں تو حضرت خلیفہ اول جو ایک ماہر طبیب تھے ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے یاممکن ہے کہ یہ کسی ایسے وقت کی بات ہو۔جب حضرت خلیفہ اول عارضی طور پر کسی سفر پر باہر گئے ہونگے مگر بہر حال حضرت صاحب کے اعلیٰ اخلاق کا یہ ایک بین ثبوت ہے کہ ایک دشمن کی تکلیف کا سنکر بھی آپ کی طبیعت پریشان ہوگئی۔اور آپ اس کی امداد کے لئے پہنچ گئے۔512 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کو کبھی کبھار پاؤں کے انگوٹھے پر نقرس کا درد ہو جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ شروع میں گھٹنے کے جوڑ میں بھی درد ہوا تھا۔نہ معلوم وہ کیا تھا۔مگر دوتین دن زیادہ تکلیف رہی۔پھر جونکیں لگانے سے آرام آیا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ نقرس کے درد میں آپ کا انگوٹھا سوج جاتا تھا۔اور سُرخ بھی ہو جاتا تھا اور بہت درد ہوتی تھی۔خاکسار نے بھی درد نقرس حضرت صاحب سے ہی ورثہ میں پایا ہے حضرت خلیفہ