سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 521
سیرت المہدی 521 حصہ سوم مسجد مبارک میں قدم رکھا۔تو اس وقت حضرت صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور وہ عرب صاحب موجود تھے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔کہ هَذَا رَجُلٌ حَافِظٌ نُورٍ مُحَمَّد “ اور حضور نے فرمایا۔کہ میاں نور محمد آپ عرب صاحب کو ہمراہ لے جائیں اور وہ لڑکی دکھلا دیں۔بعد نماز ظہر میں عرب صاحب کو ساتھ لے کر فیض اللہ چک کو روانہ ہوا۔آپ کے ارشاد کے ماتحت کارروائی کی گئی۔مگر انہوں نے پسند نہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی شادی مالیر کوٹلہ میں کرا دی۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ ایک عرب صاحب جو آخری زمانہ میں قادیان آ کر رہے تھے۔ان کا نام عبدائی تھا اور حضرت صاحب نے ان کی شادی ریاست پٹیالہ میں کرا دی تھی۔سو اگر اس روایت میں انہی کا ذکر ہے۔تو مالیر کوٹلہ کے متعلق حافظ نور محمد صاحب کو سہو ہوا ہے۔یا شاید یہ ور ہوں گے۔509 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ جس سال حضور نے عید الاضحی کے موقعہ پر خطبہ الہامیہ پڑھا تھا۔اس سال (۹) رذی الحج ) کو یعنی حج کے دن اعلان کر دیا تھا کہ آج ہم دعا کریں گے۔لوگ اپنے نام رقعوں پر لکھ کر بھیج دیں۔چنانچہ قریباً تمام اصحاب الصفہ اور مہمانان نے اپنے نام لکھ کر حضور کی خدمت میں پہنچا دیئے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ خاص خاص موقعوں پر لوگ اس طرح ناموں کی فہرست بنا کر حضور کی خدمت میں دعا کے لئے بھیجا کرتے تھے بلکہ بعد میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب روزانہ ہی ایسی فہرست ڈاک کے خطوط میں سے منتخب کر کے اور نیز دیگر حاجت مندانِ دُعا کے نام لکھ کر حضور کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب کی مراد اصحاب الصفہ سے وہ اصحاب ہیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیض صحبت کی خاطر اپنے وطنوں کو چھوڑ کر قادیان میں ڈیرہ جما بیٹھے تھے۔جیسا کہ حضور کے الہام میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔510 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ جب بعض مخلصین