سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 497
سیرت المہدی 497 حصہ سوم موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق روایات کا ایک عمدہ خزانہ تھے۔(۹) روایت نمبر ۳۰۷ کی تشریح میں جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ایک چوزہ ذبح کرتے ہوئے زخمی ہو گئے۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔کہ :۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام عصر کی نماز کے وقت مسجد مبارک میں تشریف لائے۔بائیں ہاتھ کی انگلی پر پٹی پانی میں بھیگی ہوئی باندھی ہوئی تھی۔اس وقت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے حضرت اقدس سے پوچھا۔کہ حضور نے یہ پٹی کیسے باندھی ہے؟ تب حضرت اقدس علیہ السلام نے ہنس کر فر مایا کہ ایک چوزہ ذبح کرنا تھا۔ہماری اُنگلی پر چھری پھر گئی۔مولوی صاحب مرحوم بھی ہنسے اور عرض کیا کہ آپ نے ایسا کام کیوں کیا۔حضرت نے فرمایا۔کہ اس وقت اور کوئی نہ تھا۔(۱۰) روایت نمبر ۳۰۹ کی تشریح میں جس میں لدھیانہ کی پہلے دن کی بیعت کا ذکر ہے۔مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔کہ روایت نمبر ۳۰۹ میں مخدومی مکرمی صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نے پہلے دن کی بیعت میں مولوی عبداللہ صاحب کے ذکر میں فرمایا ہے کہ وہ خوست کے رہنے والے تھے۔یہ درست نہیں۔دراصل مولوی عبد اللہ صاحب کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔وہ خوست کے رہنے والے نہ تھے۔اس میں صاحبزادہ صاحب کو سہو ہوا ہے۔مولوی عبداللہ صاحب اس سلسلہ کے سب سے پہلے شخص ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی طرف سے بیعت لینے کی اجازت دی تھی۔آپ تنگئی علاقہ چارسدہ ضلع پشاور کے رہنے والے تھے۔میں نے حضرت مولوی عبداللہ صاحب کے نام حضرت اقدس کا مکتوب اور اجازت نامہ الحکم کے ایک خاص نمبر میں شائع کر دیا تھا۔(۱۱) روایت نمبر ۳۳۴ کی تشریح میں جس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ایک شعر پڑھ کر چشم پر آب ہو گئے۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔کہ :۔یہ شعر كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِئ الخ مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے سامنے پڑھا تھا۔اور مجھے سُنا کر فرمایا۔کہ کاش !احسان کا یہ شعر میرا ہوتا اور میرے تمام شعرحستان کے ہوتے۔پھر آپ چشم پر آب ہو گئے۔اس وقت حضرت اقدس نے یہ شعر کئی بار پڑھا۔