سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 470
سیرت المہدی 470 حصہ دوم اس جگہ میں یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ بعض صورتوں میں ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک راوی حافظ و عادل نہ ہولیکن جو روایت وہ بیان کرتا ہو وہ درست ہو۔ایسی حالت میں بھی اگر دوسرے قرائن سے روایت کی صحت کا یقین ہو تو روایت کے لے لینے میں چنداں حرج نہیں۔اور گو یہ مقام اندیشہ ناک ہے لیکن علم کی تلاش میں بعض اوقات اندیشہ ناک جگہوں میں ہاتھ ڈالنا پڑتا ہے۔دوسرا حصہ اس اعتراض کا یہ ہے کہ سیرۃ المہدی میں بعض ایسی روایات آگئی ہیں جن میں کوئی راوی ایسی باتیں بیان کرتا ہے جس کا علم اس کے لئے براہ راست ممکن نہیں تھا۔پس ضرور اس نے کسی اور سے سن کر یا کسی جگہ سے پڑھ کر یہ روایت بیان کی ہوگی اور چونکہ اس درمیانی راوی کا علم نہیں دیا گیا اس لئے روایت قابل وثوق نہیں سمجھی جاتی ہیں۔میں اس اعتراض کی معقولیت کو اصولاً تسلیم کرتا ہوں اس قسم کی روایات اگر کوئی ہیں تو وہ واقعی روایت کے اعلیٰ پایہ سے گری ہوئی ہیں۔لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اس کمزوری کی وجہ سے ایسی روایات کو کلیۂ متروک بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بسا اوقات اس قسم کی روایات سے نہایت مفید اور صحیح معلومات میسر آجاتے ہیں۔دراصل اصول روایت کے لحاظ سے کسی روایت کے کمزور ہونے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ روایت فی الواقع غلط بھی ہے۔بلکہ بالکل ممکن ہے کہ ایسی روایت بالکل صحیح اور قابل اعتماد ہو۔مثلاً فرض کرو کہ میں نے ایک بات سنی اور کسی معتبر آدمی سے سنی لیکن کچھ عرصہ کے بعد مجھے وہ بات تو یا در ہی لیکن راوی کا نام ذہن سے بالکل نکل گیا۔اب جو میں وہ روایت بیان کروں گا تو بغیر اس راوی کا نام بتانے کے کروں گا۔اور اصول روایت کی رو سے میری یہ روایت واقعی کمزور سمجھی جائے گی۔لیکن دراصل اگر میرے حافظہ اور فہم نے غلطی نہیں کی۔تو وہ بالکل صحیح اور درست ہوگی۔بلکہ بعید نہیں کہ اپنی صحت میں وہ کئی ان دوسری روایتوں سے بھی بڑھ کر ہو۔جو اصول روایت کے لحاظ سے صحیح قراردی جاتی ہیں۔مگر بایں ہمہ اصول روایت کے ترازو میں وہ ہلکی ہی اترے گی۔اس طرح عملاً بہت سی باتوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔پس باوجود ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اصولاً متفق ہونے کے کہ ایسی روایت اگر کوئی ہو تو کمزور سمجھی جانی چاہیے۔میں نہایت یقین کے ساتھ اس بات پر قائم ہوں کہ اس وجہ سے ہم ایسی روایات کو بالکل ترک بھی نہیں کر سکتے