سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 449
سیرت المہدی 449 حصہ دوم موصوف کے جملہ اصولی اعتراضات کا جواب دیا گیا تھا۔اور بعض تفصیلی اعتراضات کا جواب بھی لکھا گیا تھا۔لیکن پیشتر اس کے کہ میں ڈاکٹر صاحب کے سارے اعتراضات کا جواب ختم کرتا۔مجھے اس سلسلہ مضمون کو بعض ناگزیر وجوہات سے درمیان میں چھوڑنا پڑا۔اب بعض دوستوں کی تحریک پر میں اس جگہ ڈاکٹر صاحب کے اصولی اعتراضات کا جواب درج کرتا ہوں اور تفصیلی اعتراضات کے متعلق صرف یہ عرض کرتا ہوں کہ ان کا جواب کچھ تو الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔کچھ سیرۃ المہدی کے موجودہ حصہ یعنی حصہ دوئم میں متفرق طور پر آ گیا ہے اور کچھ اگر ضرورت ہوئی تو انشاءاللہ پھر کسی موقعہ پر بیان کر دیا جاوے گا۔کچھ عرصہ ہوا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات میں ایک کتاب سیرۃ المہدی حصہ اوّل شائع کی تھی۔اس کتاب کی تصنیف کے وقت میرے دل میں جو نیت تھی اُسے صرف میں ہی جانتا ہوں یا مجھ سے بڑھ کر میرا خدا جانتا ہے۔جس سے کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں اور مجھے اس وقت یہ وہم وگمان تک نہ تھا کہ کوئی احمدی کہلانے والا شخص اس کتاب کو اس معاندانہ نظر سے دیکھے گا۔جس سے کہ بعض غیر مبائعین نے اسے دیکھا ہے۔مگر اس سلسلہ مضامین نے جو ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی طرف سے گذشتہ ایام میں پیغام صلح لاہور میں شائع ہوتا رہا ہے۔میری امیدوں کو ایک سخت ناگوار صدمہ پہنچایا ہے۔جرح و تنقید کا ہر شخص کو حق پہنچتا ہے اور کوئی حق پسند اور منصف مزاج آدمی دوسرے کی ہمدردانہ اور معقول تنقید کو نا پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔بلکہ دراصل یہ ایک خوشی کا مقام ہوتا ہے۔کیونکہ اس قسم کی بحثیں جو نیک نیتی کے ساتھ معقول طور پر کی جائیں۔طرفین کے علاوہ عام لوگوں کی بھی تنویر کا موجب ہوتی ہیں۔کیونکہ اس طرح بہت سے مفید معلومات دنیا کے سامنے آجاتے ہیں۔اور چونکہ طرفین کی نیتیں صاف ہوتی ہیں اور سوائے منصفانہ علمی تنقید کے اور کوئی غرض نہیں ہوتی۔اس لئے ایسے مضامین سے وہ بدنتائج بھی پیدا نہیں ہوتے۔جو بصورت دیگر پیدا ہونے یقینی ہوتے ہیں مگر مجھے بڑے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کا مضمون اس شریفانہ مقام تنقید سے بہت گرا ہوا ہے میں اب بھی ڈاکٹر صاحب کی نیت پر حملہ نہیں کرنا چاہتا لیکن اس افسوس ناک حقیقت کو بھی چھپایا نہیں جاسکتا کہ ڈاکٹر صاحب