سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 426
سیرت المہدی 426 حصہ دوم کبھی ان دنوں سیر کے وقت باغ کی جانب تشریف لے جاتے اور مع سب رفیقوں کے اسی جگہ بیدانہ نڑوا کرسب کے ہمراہ ایک ٹوکرے میں نوش جان فرماتے اور خشک میووں میں سے صرف بادام کو ترجیح دیتے تھے۔چائے کا میں پہلے اشارہ کر آیا ہوں آپ جاڑوں میں صبح کو اکثر مہمانوں کے لئے روزانہ بنواتے تھے اور خود بھی پی لیا کرتے تھے۔مگر عادت نہ تھی۔سبز چائے استعمال کرتے اور سیاہ کو نا پسند فرماتے تھے۔اکثر دودھ والی میٹھی پیتے تھے۔زمانہ موجودہ کے ایجادات مثلاً برف اور سوڈا لیمونیڈ جنجر وغیرہ بھی گرمی کے دنوں میں پی لیا کرتے تھے۔بلکہ شدت گرمی میں برف بھی امرتسر۔لاہور سے خود منگوالیا کرتے تھے۔بازاری مٹھائیوں سے بھی آپ کو کسی قسم کا پر ہیز نہ تھا نہ اس بات کی پر چول تھی کہ ہندو کی ساختہ ہے یا مسلمانوں کی۔لوگوں کی نذرانہ کے طور پر آوردہ مٹھائیوں میں سے بھی کھا لیتے تھے اور خود بھی روپیہ دو روپیہ کی مٹھائی منگوا کر رکھا کرتے تھے۔مٹھائی بچوں کے لئے ہوتی تھی کیونکہ وہ اکثر حضور ہی کے پاس چیزیں یا پیسہ مانگنے دوڑے آتے تھے۔میٹھے بھرے ہوئے سموسے یا بیدا نہ عام طور پر یہ دو ہی چیزیں آپ ان بچوں کے لئے منگوار کھتے کیونکہ یہی قادیان میں ان دنوں میں اچھی بنتی تھیں۔ایک بات یہ بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ آپ کو اپنے کھانے کی نسبت اپنے مہمانوں کے کھانے کا زیادہ فکر رہتا تھا اور آپ دریافت فرمالیا کرتے تھے کہ فلاں مہمان کو کیا کیا پسند ہے اور کس کس چیز کی اس کو عادت ہے۔چنانچہ مولوی محمد علی ایم۔اے کا جب تک نکاح نہیں ہوا۔تب تک آپ کو ان کی خاطر داری کا اس قدر اہتمام تھا کہ روزانہ خود اپنی نگرانی میں ان کے لئے دودھ ، چائے لہسکٹ، مٹھائی ، انڈے وغیرہ برابر صبح کے وقت بھیجا کرتے اور پھر لے جانے والے سے دریافت بھی کر لیتے تھے کہ انہوں نے اچھی طرح سے کھا بھی لیا۔تب آپ کو تسلی ہوتی۔اسی طرح خواجہ صاحب کا بڑا خیال رکھتے اور بار بار دریافت فرمایا کرتے کہ کوئی مہمان بھوکا تو نہیں رہ گیا یا کسی کی طرف سے ملا زمان لنگر خانہ نے تغافل تو نہیں کیا۔بعض