سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 425
سیرت المہدی 425 حصہ دوم مزیدار چیز نہیں اور لوگ لذت کے لئے اس کا استعمال نہیں کرتے۔پھر اگر مزے کی چیز بھی استعمال کی تو ایسی نیت اور کام کرنے والے کے لئے تو وہ فرض ہے۔حالانکہ ہمارے جیسے کاہل الوجود انسانوں کے لئے وہی کھانے یعیش میں داخل ہیں۔اور پھر جس وقت دیکھا جائے کہ وہ شخص ان مقوی غذاؤں کو صرف بطور قوت لایموت اور سد رمق کے طور پر استعمال کرتا ہے تو کون عقل کا اندھا ایسا ہو گا کہ اس خوراک کو لذائذ حیوانی اور حظوظ نفسانی سے تعبیر کرے۔خدا تعالیٰ ہر مومن کو بدظنی سے بچائے۔دودھ کا استعمال آپ اکثر رکھتے تھے اور سوتے وقت تو ایک گلاس ضرور پیتے تھے اور دن کو بھی پچھلے دنوں میں زیادہ استعمال فرماتے تھے۔کیونکہ یہ معمول ہو گیا تھا کہ ادھر دودھ پیا اور اُدھر دست آگیا اس لئے بہت ضعف ہو جاتا تھا۔اس کے دور کرنے کو دن میں تین چار مرتبہ تھوڑا تھوڑا دودھ طاقت قائم کرنے کو پی لیا کرتے تھے۔دن کے کھانے کے وقت پانی کی جگہ گرمی میں آپ کسی بھی پی لیا کرتے تھے اور برف موجود ہو تو اس کو بھی استعمال فرما لیتے تھے۔ان چیزوں کے علاوہ شیرہ بادام بھی گرمی کے موسم میں جس میں چند دانہ مغز بادام اور چند چھوٹی الائچیاں اور کچھ مصری پیس کر چھن کر پڑتے تھے۔پیا کرتے تھے۔اور اگر چہ معمول نہیں مگر کبھی کبھی رفع ضعف کے لئے آپ کچھ دن متواتر یخنی گوشت یا پاؤں کی پیا کرتے تھے یہ یخنی بھی بہت بدمزہ چیز ہوتی تھی یعنی صرف گوشت کا ابلا ہوا رس ہوا کرتا تھا۔میوہ جات آپ کو پسند تھے اور اکثر خدام بطور تحفہ کے لایا بھی کرتے تھے۔گاہے بگا ہے خود بھی منگواتے تھے۔پسندیدہ میووں میں سے آپ کو انگور، بمبئی کا کیلا ، ناگپوری سنگترے ،سیب ،سردے اور سرولی آم زیادہ پسند تھے۔باقی میوے بھی گا ہے ما ہے جو آتے رہتے تھے کھا لیا کرتے تھے۔گنا بھی آپ کو پسند تھا۔شہتوت بیدانہ کے موسم میں آپ بیدا نہ اکثر اپنے باغ کی جنس سے منگوا کر کھاتے تھے اور کبھی