سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 415 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 415

سیرت المہدی 415 حصہ دوم بڑے نیچے سے چھوٹے۔قوت شنوائی آپ کی آخر وقت تک عمدہ اور خدا کے فضل سے برقرار رہی۔رخسار مبارک آپ کے نہ پچکے ہوئے اندر کو تھے نہ اتنے موٹے کہ باہر کو نکل آویں۔نہ رخساروں کی ہڈیاں اُبھری ہوئی تھیں۔بھنویں آپ کی الگ الگ تھیں۔پیوستہ ابرونہ تھے۔پیشانی اور سر مبارک: پیشانی مبارک آپ کی سیدھی اور بلند اور چوڑی تھی اور نہایت درجہ کی فراست اور ذہانت آپ کے جبیں سے ٹپکتی تھی۔علم قیافہ کے مطابق ایسی پیشانی بہترین نمونہ اعلیٰ صفات اور اخلاق کا ہے۔یعنی جو سیدھی ہو نہ آگے کو نکلی ہوئی نہ پیچھے کو دھسی ہوئی اور بلند ہو یعنی اونچی اور کشادہ ہو اور چوڑی ہو۔بعض پیشانیاں گواونچی ہوں مگر چوڑ ان ماتھے کی تنگ ہوتی ہے ، آپ میں یہ تینوں خوبیاں جمع تھیں۔اور پھر یہ خوبی کہ چیں بجبیں بہت کم پڑتی تھی۔سر آپکا بڑا تھا، خوبصورت بڑا تھا، اور علم قیافہ کی روسے ہر سمت سے پورا تھا۔یعنی لمبا بھی تھا، چوڑا بھی تھا، اونچا بھی اور سطح اوپر کی۔اکثر حصہ ہموار اور پیچھے سے بھی گولائی درست تھی۔آپ کی کنپٹی کشادہ تھی اور آپ کی کمال عقل پر دلالت کرتی تھی۔لب مبارک :۔آپ کے لب مبارک پہلے نہ تھے مگر تاہم ایسے موٹے بھی نہ تھے کہ برے لگیں۔دہانہ آپ کا متوسط تھا۔اور جب بات نہ کرتے ہوں تو منہ کھلا نہ رہتا تھا۔بعض اوقات مجلس میں جب خاموش بیٹھے ہوں تو آپ عمامہ کے شملہ سے دہان مبارک ڈھک لیا کرتے تھے۔دندان مبارک آپ کے آخر عمر میں کچھ خراب ہو گئے تھے یعنی کیڑا لبعض ڈاڑھوں کو لگ گیا تھا جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔چنانچہ ایک دفعہ ایک ڈاڑھ کا سرا ایسا نوکدار ہو گیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا۔مگر کبھی کوئی دانت نکلوایا نہیں۔مسواک آپ اکثر فرمایا کرتے تھے۔پیر کی ایڑیاں آپ کی بعض دفعہ گرمیوں کے موسم میں پھٹ جایا کرتی تھیں۔اگر چہ گرم کپڑے سردی گرمی برابر پہنتے تھے۔تاہم گرمیوں میں پسینہ بھی خوب آجا تا تھا مگر آپ کے پسینہ میں کبھی بو نہیں آتی تھی خواہ کتنے ہی دن بعد کرتا بدلیں اور کیسا ہی موسم ہو۔گردن مبارک :۔آپ کی گردن متوسط لمبائی اور موٹائی میں تھی۔آپ اپنے مطاع نبی کریم ﷺ کی