سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 414
سیرت المہدی 414 حصہ دوم ریش مبارک کی طرح موچھوں کے بال بھی مضبوط اور اچھے موٹے اور چمکدار تھے۔آپ کہیں کتر واتے تھے۔مگر نہ اتنی کہ جو وہابیوں کی طرح مونڈی ہوئی معلوم ہوں نہ اتنی لمبی کہ ہونٹ کے کنارے سے نیچی ہوں۔جسم پر آپ کے بال صرف سامنے کی طرف تھے۔پشت پر نہ تھے اور بعض اوقات سینہ اور پیٹ کے بال آپ مونڈ دیا کرتے تھے یا کتر وادیتے تھے۔پنڈلیوں پر بہت کم بال تھے اور جو تھے وہ نرم اور چھوٹے اس طرح ہاتھوں کے بھی۔چہرہ مبارک : آپکا چہرہ کتابی یعنی معتدل لمبا تھا اور حالانکہ عمر شریف ۷۰ اور ۸۰ کے درمیان تھی پھر بھی جھریوں کا نام ونشان نہ تھا۔اور نہ متفکر اور غصہ ور طبیعت والوں کی طرح پیشانی پر شکن کے نشانات نمایاں تھے۔رنج، فکر، تر در یا غم کے آثار چہرہ پر دیکھنے کی بجائے زیارت کنندہ اکثر تبسم اور خوشی کے آثار ہی دیکھتا تھا۔آپ کی آنکھوں کی سیاہی ، سیاہی مائل شربتی رنگ کی تھی اور آنکھیں بڑی بڑی تھیں مگر پپوٹے اس وضع کے تھے کہ سوائے اس وقت کے جب آپ ان کو خاص طور پر کھولیں ہمیشہ قدرتی غض بصر کے رنگ میں رہتی تھیں بلکہ جب مخاطب ہو کر بھی کلام فرماتے تھے تو آنکھیں نیچی ہی رہتی تھیں اسی طرح جب مردانہ مجالس میں بھی تشریف لے جاتے تو بھی اکثر ہر وقت نظر نیچے ہی رہتی تھی۔گھر میں بھی بیٹھتے تو اکثر آپ کو یہ نہ معلوم ہوتا کہ اس مکان میں اور کون کون بیٹھا ہے۔اس جگہ یہ بات بھی بیان کے قابل ہے کہ آپ نے کبھی عینک نہیں لگائی اور آپ کی آنکھیں کام کرنے سے کبھی نہ تھکتی تھیں۔خدا تعالیٰ کا آپ کے ساتھ حفاظت عین کا ایک وعدہ تھا جس کے ماتحت آپ کی چشمانِ مبارک آخر وقت تک بیماری اور تکان سے محفوظ رہیں البتہ پہلی رات کا ہلال آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں نظر نہیں آتا۔ناک حضرت اقدس کی نہایت خوبصورت اور بلند بال تھی ، پتلی ، سیدھی، اونچی اور موزوں نہ پھیلی ہوئی تھی نہ موٹی۔کان آنحضور کے متوسط یا متوسط سے ذرا بڑے۔نہ باہر کو بہت بڑھے ہوئے نہ بالکل سر کے ساتھ لگے ہوئے قلمی آم کی قاش کی طرح اوپر سے