سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 411
سیرت المہدی 411 حصہ دوم حضرت صاحب یہ ہیں بعینہ ایسا واقعہ ہجرت کے وقت نبی کریم ﷺ کو مدینہ میں پیش آیا تھا۔وہاں بھی لوگ حضرت ابو بکر کو رسول خدا سمجھ کر مصافحہ کرتے رہے جب تک کہ انہوں نے آپ پر چادر سے سایہ کر کے لوگوں کو ان کی غلطی سے آگاہ نہ کر دیا۔جسم اور قد آپ کا جسم ڈبلا نہ تھا نہ آپ بہت موٹے تھے البتہ آپ دوہرے جسم کے تھے۔قد متوسط تھا اگر چہ نا پانہیں گیا مگر اند از آپانچ فٹ آٹھ انچ کے قریب ہوگا۔کندھے اور چھاتی کشادہ اور آخر عمر تک سیدھے رہے نہ کمر جھکی نہ کندھے تمام جسم کے اعضاء میں تناسب تھا۔یہ نہیں کہ ہاتھ بے حد لمبے ہوں یا تاتگیں یا اپنے اندازہ سے زیادہ لگا ہوا ہو۔فرض کسی قسم کی بدصورتی آپ کے جسم میں نہ تھی۔جلد آپ کی متوسط درجہ کی تھی نہ سخت، نہ کھردری اور نہ ایسی ملائم جیسی عورتوں کی ہوتی ہے۔آپ کا جسم پلپلا اور نرم نہ تھا بلکہ مضبوط اور جوانی کی سی تختی لئے ہوئے۔آخر عمر میں آپ کی کھال کہیں سے بھی نہیں لٹکی نہ آپ کے جسم پر جھریاں پڑیں۔آپ کا رنگ:۔رنگم چوگندم است و بموفرق بین ست زاں ساں که آمدست در اخبار سرورم آپ کا رنگ گندمی اور نہایت اعلیٰ درجہ کا گندمی تھا یعنی اس میں ایک نورانیت اور سُرخی جھلک مارتی تھی۔اور یہ چمک جو آپ کے چہرہ کے ساتھ وابستہ تھی عارضی نہ تھی بلکہ دائی کبھی کسی صدمہ، رنج، ابتلاء مقدمات اور مصائب کے وقت آپ کا رنگ زرد ہوتے نہیں دیکھا گیا اور ہمیشہ چہرہ مبارک کندن کی طرح دمکتا رہتا تھا۔کسی مصیبت اور تکلیف نے اس چمک کو دور نہیں کیا۔علاوہ اس چمک اور نور کے آپ کے چہرہ پر ایک بشاشت اور تبسم ہمیشہ رہتا تھا اور دیکھنے والے کہتے تھے کہ اگر یہ شخص مفتری ہے اور دل میں اپنے تئیں جھوٹا جانتا ہے تو اسکے چہرہ پر یہ بشاشت اور خوشی اور فتح اور طمانیت قلب کے آثار کیونکر ہو سکتے ہیں۔یہ نیک ظاہر کسی بد باطن کے ساتھ وابستہ نہیں رہ سکتا۔اور ایمان کا نور بد کار کے چہرہ پر درخشندہ نہیں ہوسکتا۔ہتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آگیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے پژمردہ ہیں اور دل سخت منقبض