سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 410 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 410

سیرت المہدی 410 حصہ دوم دیکھنے والے اور نہ دیکھنے والے احمدیوں میں بھی ایک فرق ہے۔دیکھنے والوں کے دل میں ایک سرور اور لذت اسکے دیدار اور صحبت کی اب تک باقی ہے۔نہ دیکھنے والے بارہا تاسف کرتے پائے گئے کہ ہائے ہم نے جلدی کیوں نہ کی اور کیوں نہ اس محبوب کا اصلی چہرہ اس کی زندگی میں دیکھ لیا۔تصویر اور اصل میں بہت فرق ہے اور وہ فرق بھی وہی جانتے ہیں جنھوں نے اصل کو دیکھا۔میرا دل چاہتا ہے کہ احمد (علیہ السلام) کے حلیہ اور عادات پر کچھ تحریر کروں۔شاید ہمارے وہ دوست جنہوں نے اس ذات بابرکت کو نہیں دیکھا حظ اُٹھاویں۔حلیہ مبارک : بجائے اس کے کہ میں آپ کا حلیہ بیان کروں اور ہر چیز پر خود کوئی نوٹ دوں یہ بہتر ہے کہ میں سرسری طور پر اس کا ذکر کرتا جاؤں اور نتیجہ پڑھنے والے کی اپنی رائے پر چھوڑ دوں۔آپ کے تمام حلیہ کا خلاصہ ایک فقرہ میں یہ ہوسکتا ہے کہ ” آپ مردانہ حسن کے اعلیٰ نمونہ تھے“ مگر یہ فقرہ بالکل نامکمل رہے گا اگر اس کے ساتھ دوسرایہ نہ ہو کہ یہ حسن انسانی ایک روحانی چمک دمک اور انوار اپنے ساتھ لئے ہوئے تھا۔“ اور جس طرح آپ جمالی رنگ میں اس امت کیلئے مبعوث ہوئے تھے اسی طرح آپ کا جمال بھی خدا کی قدرت کا نمونہ تھا اور دیکھنے والے کے دل کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔آپ کے چہرہ پر نورانیت کے ساتھ رعونت، ہیبت اور استکبار نہ تھے۔بلکہ فروتنی ، خاکساری اور محبت کی آمیزش موجود تھی۔چنانچہ ایک دفعہ کا واقعہ میں بیان کرتا ہوں کہ جب حضرت اقدس چولہ صاحب کو دیکھنے ڈیرہ بابا نانک تشریف لے گئے تو وہاں پہنچ کر ایک درخت کے نیچے سایہ میں کپڑا بچھا دیا گیا اور سب لوگ بیٹھ گئے۔آس پاس کے دیہات اور خاص قصبہ کے لوگوں نے حضرت صاحب کی آمدسُن کر ملاقات اور مصافحہ کیلئے آنا شروع کیا۔اور جو شخص آتنا مولوی سید محمد احسن صاحب کی طرف آتا اور اُن کو حضرت اقدس سمجھ کر مصافحہ کر کے بیٹھ جاتا۔غرض کچھ دیر تک لوگوں پر یہ امر نہ کھلا ، جب تک خود مولوی صاحب موصوف نے اشارہ سے اور یہ کہہ کر لوگوں کو ادھر متوجہ نہ کیا کہ