سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 380
سیرت المہدی 380 حصہ دوم مرحوم ملازم تھے۔اور یہاں آکر آپ نے ایک اشتہار مورخہ ۳۱ اکتوبر ۱۸۹۱ء کے ذریعہ سے مولوی محمد اسحاق کو وفات حیات مسیح ناصری کے مسئلہ میں بحث کی دعوت دی۔مگر کوئی مباحثہ نہیں ہوا۔اور اس کے بعد آپ قادیان واپس تشریف لے آئے۔مگر ۱۸۹۲ء کے شروع میں آپ پھر عازم سفر ہوئے اور سب سے پہلے لاہور تشریف لے گئے۔جہاں ۳۱ / جنوری کو آپ کی ایک پبلک تقریر ہوئی اور مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری کے ساتھ ایک مباحثہ بھی ہوا۔جوس فروری ۱۸۹۲ء کو ختم ہوا۔لاہور سے آپ سیالکوٹ اور سیالکوٹ سے جالندھر اور جالندھر سے لدھیانہ تشریف لے گئے اور لدھیانہ سے واپس قادیان تشریف لے آئے۔اور اس طرح آپ کے دعوئی مسیحیت کے بعد کے ابتدائی سفروں کا اختتام ہوا۔۱۸۹۳ء کے ماہ مئی میں آپ پھر قادیان سے نکلے اور امرتسر میں ڈپٹی عبداللہ انتم عیسائی کے ساتھ تحریری مباحثہ فرمایا جس کی روئداد جنگ مقدس میں شائع ہو چکی ہے۔یہ مباحثہ ۲۲ رمئی ۱۸۹۳ء کو شروع ہو کر ۵/ جون ۱۸۹۳ء کو ختم ہوا اور حضرت صاحب نے اپنے آخری پرچہ میں آتھم کے لئے خدا سے خبر پا کر وہ پیشگوئی فرمائی جس کے نتیجہ میں آٹھم بالآخر اپنے کیفر کردار کو پہنچا۔انہی دنوں میں آپ نے ایک دن یعنی ، اذی قعدہ ۱۳۱۰ھ مطابق ۲۷ رمئی ۱۸۹۳ء کو مولوی عبدالحق غزنوی کے ساتھ امرتسر کی عیدگاہ کے میدان میں مباہلہ فرمایا اور گو حضرت صاحب نے اپنے اشتہار مورخہ ۳۰ شوال ۱۳۱۰ھ میں ہندوستان کے تمام مشہور علماء کو جو مکفرین میں سے تھے مباہلہ کیلئے بلایا تھا لیکن سوائے مولوی عبدالحق غزنوی کے کوئی مولوی میدان میں سامنے نہیں آیا ( اس ساری سر گذشت کیلئے ملاحظہ ہو حضرت صاحب کی تصانیف ازالہ اوہام والحق لدھیانہ والحق دہلی و جنگ مقدس و اشتہارات مورخه ۳۰ شوال ۱۳۱۰ھ و مورخه ۹ رذی قعده ۱۳۱۰ھ و نیز اشتہارات مورخ ۲ راکتو بر و ۶ /اکتوبر و ۱۷ اکتوبر و ۲۳ /اکتوبر ۱۸۹۱ ء و ۲۸ جنوری و ۳ فروری و ۱۷/ مارچ ۱۸۹۲ء و خط و کتابت مابین حضرت صاحب و میر عباس علی مورخه ۶ و ۷ و مئی ۱۸۹۲ و تذکرۃ المہدی حصہ اول وسيرة امسیح موعود مصنفہ حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ ) اس جگہ یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ اس مباہلہ میں کوئی میعاد مقرر نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی حضرت صاحب نے فریق مخالف کیلئے بددعا کی تھی بلکہ صرف یہی دعا کی تھی کہ اگر میں جھوٹا اور مفتری