سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 379
سیرت المہدی 379 حصہ دوم وفاداری و ذرہ نوازی کا ایک عجیب نظارہ نظر آتا ہے۔کہ جب میں اس واقعہ کو پڑھتا ہوں کہ جب ایک دفعہ قبل دعوئی میسحیت لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مولوی محمد حسین بٹالوی کے مقابلہ میں بعض حنفی اور وہابی مسائل کی بحث کے لئے بلایا اور ایک بڑا مجمع لوگوں کا اس بحث کے سننے کے لئے جمع ہو گیا اور مولوی محمد حسین نے ایک تقریر کر کے لوگوں میں ایک جوش کی حالت پیدا کر دی اور وہ حضرت صاحب کا جواب سننے کے لئے ہمہ تن انتظار ہو گئے۔مگر حضرت صاحب نے سامنے سے صرف اس قدر کہا کہ اس وقت کی تقریر میں جو کچھ مولوی صاحب نے بیان کیا ہے اس میں مجھے کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی کہ جو قابل اعتراض ہو۔اس لئے میں اس کے جواب میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔کیونکہ میرا مقصد خوانخواہ بحث کرنا نہیں بلکہ تحقیق حق ہے۔آپ کے اس جواب نے جو مایوسی اور استہزا کی لہر لوگوں کے اندر پیدا کی ہوگی وہ ظاہر ہے مگر آپ نے حق کے مقابل میں اپنی ذاتی شہرت و نام و نمود کی پرواہ نہیں کی اور ڈر گئے بھاگ گئے ذلیل ہو گئے“ کے طعن سنتے ہوئے وہاں سے اُٹھ آئے۔مگر خدا کو اپنے بندے کی یہ ”شکست“ جو اس کی خاطر اختیار کی گئی تمام فتوں سے زیادہ پیاری ہوئی اور ابھی ایک رات بھی اس واقعہ پر نہ گذری تھی کہ اس نے اپنے اس بندے کو الہام کیا کہ خدا کو تیرا یہ فعل بہت پسند آیا اور وہ تجھے بہت عزت اور برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور پھر عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھائے گئے کہ جو گھوڑوں پر سوار تھے۔اور تعداد میں سات تھے۔جس میں غالباً یہ اشارہ تھا۔کہ ہفت اقلیم کے فرمانروا تیرے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو کر تجھ سے برکتیں پائیں گے۔یہ خدائی غیرت اور خدائی محبت اور خدائی وفاداری اور خدائی ذرہ نوازی کا ایک کرشمہ ہے۔اور حضرت صاحب پر ہی بس نہیں بلکہ ہر ایک وہ شخص جو خالصتاً خدا کی خاطر بغیر کسی قسم کی نفس کی ملونی کے خدا سے اس قسم کا پیوند باندھے گا وہ یقیناً اسے ایسا ہی مہربان پائے گا۔لان ذلك سنة الله ولن تجد لسنة الله تبديلا الغرض حضرت مسیح موعود نے مولوی محمد بشیر کے ساتھ مباحثہ کرتے ہوئے بجائے پانچ پر چوں کے تین پر چوں پر ہی بحث کو ختم کر دیا۔اور پھر غالباً اسی روز دہلی سے روانہ ہوکر پٹیالہ تشریف لے آئے جہاں ان دنوں میں ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب