سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 372
سیرت المہدی 372 حصہ دوم کہ جن کے نتیجہ میں موسم عموماً اچھا رہتا ہو اور بادل اور بارشیں اور خنک ہوا ئیں بر وقت وقوع میں آکر زیادہ دن تک لگا تار گرمی کی شدت نہ پیدا ہونے دیتی ہوں تو یہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں۔آخر جہاں خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام کو آسان کرنے کے لئے اپنی عام قدرت کے ماتحت ڈاک اور تار اور ریل اور دخانی جہاز اور مطبع وغیرہ کی سہولتیں پیدا کر دیں اور دوسری طرف اپنی تقدیر خاص کے ماتحت ہزاروں خارق عادت نشان ظاہر فرمائے وہاں اگر اس خیال کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ آپ نے خصوصیت کے ساتھ تصنیف کا کام کرنا ہے جو عموماً اچھے موسم کو چاہتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے اپنی عام تقدیر کے ماتحت ایسے سامان جمع کر دیئے ہوں کہ جن کے نتیجہ میں موسم میں عموماً زیادہ شدت کی گرمی نہ پیدا ہوتی ہو۔تو کسی عقل مند مومن کے نزدیک جائے اعتراض نہیں ہو سکتا۔باقی رہا حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں کبھی ایک آدھ دفعہ نماز استسقاء کا پڑھا جانا۔سواس سے بھی جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔واللہ اعلم۔6419 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایسے زمانہ میں مبعوث فرمایا ہے کہ رمضان کا مہینہ سردیوں میں آتا ہے اور روزے زیادہ جسمانی تکلیف کا موجب نہیں ہوتے اور ہم آسانی کے ساتھ رمضان میں بھی کام کر سکتے ہیں۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ ان دنوں میں رمضان دسمبر میں آیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے اس زمانہ کی جنتری کو دیکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیحیت کا دعوی ۱۸۹۱ء میں فرمایا تھا۔اور ۱۸۹۱ء میں رمضان کا مہینہ اارا پریل کو شروع ہوا تھا۔گویا یہ رمضان کے مہینہ کے لئے موسم سرما میں داخل ہونے کی ابتدا تھی۔چنانچہ ۱۸۹۲ء میں رمضان کے مہینہ کی ابتدا ۳۱ مارچ کو ہوئی۔اور ۱۸۹۳ء میں ۲۰ مارچ کو ہوئی۔اور اس کے بعد رمضان کا مہینہ ہر سال زیادہ سردیوں کے دنوں میں آتا گیا۔اور جب ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تو اس سال رمضان کے مہینہ کی ابتدا یکم اکتوبر کو ہوئی تھی۔اس طرح گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا زمانہ تمام کا تمام ایسی حالت میں گذرا کہ رمضان کے روزے سردی کے موسم میں آتے رہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کا