سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 370 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 370

سیرت المہدی 370 حصہ دوم ہوئی تھی۔اور اسی دن شام سے قبل بادل آگئے تھے۔مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ مجھے یہ نماز یاد نہیں بلکہ مجھے یہ یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہ ایک عام احساس تھا کہ زیادہ دن تک لگا تار شدت کی گرمی نہیں پڑتی تھی اور بر وقت بارشوں اور ٹھنڈی ہواؤں سے موسم عموماً اچھا رہتا تھا۔بلکہ مجھے یاد ہے کہ اسی زمانہ میں لوگ آپس میں یہ باتیں بھی کیا کرتے کہ اس زمانہ میں زیادہ دن تک لگاتار شدت کی گرمی نہیں پڑتی اور جب بھی دو چار دن شدت کی گرمی پڑتی ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے بارش وغیرہ کا انتظام ہو جاتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ گو میں نے بعض دوسرے لوگوں سے بھی سُنا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں نماز استسقا نہیں پڑھی گئی۔لیکن اگر کبھی پڑھی بھی گئی ہو تو یہ دو باتیں آپس میں مخالف نہیں ہیں۔کیونکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ عام طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہی صورت رہی ہو کہ زیادہ دن تک لگا تار شدت کی گرمی نہ پڑتی ہو۔اور وقت کی بارشوں اور ٹھنڈی ہواؤں سے موسم عموماً اچھا رہتا ہو۔لیکن کبھی کسی سال نسبت زیادہ گرمی پڑنے اور نسبتاً زیادہ عرصہ بارش کے رکے رہنے سے نماز استسقاء کی ضرورت بھی سمجھی گئی ہو۔پس عام طور پر موسم کے اچھا رہنے کا احساس اور کبھی ایک آدھ دفعہ نماز استسقاء کا پڑھا جانا ہر گز آپس میں ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔اور یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ جس زمانہ میں عموماً موسم عمدہ رہتا ہو اس زمانہ میں بوجہ اچھے موسم کی عادت ہو جانے کے موسم کا تھوڑا بہت اونچ نیچ بھی لوگوں کے لئے تکلیف کا موجب ہو جاتا ہے اور وہ موسم کی خرابی کی شکایت کرنے لگ جاتے ہیں۔پس اگر کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں نماز استسقاء پڑھی گئی تھی تو وہ بھی غالباً کسی ایسی ہی احساس شکایت کے ماتحت پڑھی گئی ہوگی۔یعنی بوجہ عموماً اچھے موسم کے عادی ہو جانے کے لوگوں نے موسم کے تھوڑے بہت اونچ نیچ پر ہی نماز استسقاء کے پڑھے جانے کی ضرورت محسوس کر لی ہوگی۔علاوہ ازیں یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لوگوں کے اندر قادیان میں یہ ایک عام احساس تھا کہ زیادہ شدت کی گرمی نہیں پڑتی اور جب بھی چند دن لگا تار گرمی کی شکایت پیدا ہوتی ہے تو خدا کے فضل سے ایسا انتظام ہو جاتا ہے کہ بارشوں یا بادلوں یا ٹھنڈی ہواؤں سے