سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 369
سیرت المہدی 369 حصہ دوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء جہاں ایک طرف شفقت اور توجہ کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتے ہیں۔وہاں صفت استغناء میں بھی وہ خدا کے ظل کامل ہوتے ہیں۔اور بسا اوقات ان کو اپنی فراست فطری سے یہ بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ فلاں شخص قابل توجہ ہے یا نہیں؟ 417 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نے تذکرۃ المہدی حصہ دوم میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ قادیان میں بہت سے دوست بیرون جات سے آئے ہوئے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر تھے اور منجملہ ان کے حضرت خلیفہ اول اور مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب اور محمد خان صاحب اور منشی محمد اروڑا صاحب اور مولوی عبد القادر صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور شیخ غلام احمد صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیرھم بھی تھے۔مجلس میں اس بات کا ذکر شروع ہوا کہ اولیاء کو مکاشفات میں بہت کچھ حالات منکشف ہو جاتے ہیں۔اس پر حضرت اقدس تقریر فرماتے رہے اور پھر فرمایا کہ آج ہمیں دکھایا گیا ہے کہ ان حاضر الوقت لوگوں میں بعض ہم سے پیٹھ دیئے ہوئے بیٹھے ہیں اور ہم سے روگرداں ہیں۔یہ بات سُن کر سب لوگ ڈر گئے اور استغفار پڑھنے لگ گئے۔اور جب حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے تو سید فضل شاہ صاحب بہت گھبرائے ہوئے اٹھے اور ان کا چہرہ فق تھا اور انہوں نے جلدی سے آپ کے دروازہ کی زنجیر ہلائی۔حضرت صاحب واپس تشریف لائے اور دروازہ کھول کر مسکراتے ہوئے پوچھا۔شاہ صاحب کیا بات ہے؟ شاہ صاحب نے عرض کیا کہ میں حضور کو حلف تو نہیں دے سکتا کہ ادب کی جگہ ہے اور نہ میں اوروں کا حال دریافت کرتا ہوں۔صرف مجھے میرا حال بتا دیجئے کہ میں تو روگرداں لوگوں میں سے نہیں ہوں؟ حضرت صاحب بہت ہنسے اور فرمایا نہیں شاہ صاحب آپ اُن میں سے نہیں ہیں۔اور پھر ہنستے ہنستے دروازہ بند کر لیا۔اور شاہ صاحب کی جان میں جان آئی۔418 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میری اہلیہ مجھ سے کہتی تھی کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان میں نماز استسقاء پڑھی گئی تھی یہ نماز عید گاہ میں