سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 362
سیرت المہدی 362 حصہ دوم 403 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ ایک طالب علم جو کالج میں پڑھتا تھا وہ میرے پاس آکر بیان کرنے لگا کہ کچھ عرصہ سے میرے دل میں دہریت کے خیالات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔اور میں ان کا بہت مقابلہ کرتا ہوں مگر وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتے۔مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے اسے مناسب نصیحت کی اور کہا کہ تم اپنی حالت سے مجھے اطلاع دیتے رہا کرو۔مگر اس کی حالت رو بہ اصلاح نہ ہوئی۔بلکہ اس کے یہ شبہات ترقی کرتے گئے۔پھر جب وہ قادیان آیا تو میں نے اسے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت صاحب نے اس کے حالات سُن کر فر مایا کہ آپ کا لج میں جس جگہ بیٹھا کرتے ہیں وہ جگہ بدل دیں۔اس کے کچھ عرصہ بعد جب وہ پھر قادیان آیا تو کہنے لگا کہ اب میرے خیالات خود بخو دٹھیک ہونے لگ گئے ہیں۔اور اس نے یہ بیان کیا کہ مجھے اب معلوم ہوا ہے کہ جس جگہ میں پہلے بیٹھتا تھا اس کے ساتھ ایک ایسے طالب علم کی جگہ تھی جو دہریہ تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ انسان کے قلب سے مخفی طور پر اس کے خیالات کی رو جاری ہوتی رہتی ہے۔جو پاس بیٹھنے والوں پر اپنا اثر پیدا کرتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ طالب علم کمزور طبیعت کا ہوگا اور باوجود خدا پر ایمان رکھنے کے اس کا قلب اپنے دہریہ پڑوسی کی مخفی رو سے متاثر ہو گیا لیکن چونکہ حضرت صاحب نے اپنی فراست سے سمجھ لیا تھا کہ یہ اثر کسی دہریہ کے پاس بیٹھنے کا ہے اس لئے آپ نے اسے نصیحت فرمائی کہ اپنی جگہ بدل دے۔چنانچہ یہ تجویز کارگر ہوئی اور اس کی اصلاح ہو گئی۔علم توجہ جسے انگریزی میں ہپنا ٹزم کہتے ہیں وہ بھی اسی مخفی قلبی رو کا نتیجہ ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ ہپنا ٹزم میں توجہ ڈالنے والا ارادہ اور شعور کے ساتھ اپنی توجہ کا ایک مرکز قائم کرتا ہے لیکن اس قسم کی عام حالت میں بلا ارادہ ہر شخص کے قلب سے ایک رو جاری رہتی ہے اور اسی لئے یہ رو ہپنا ٹزم کی رو کی نسبت بہت کمزور اور بطی الاثر ہوتی ہے۔و 404 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا کہ میرے ساتھ شفاخانہ میں ایک انگریز لیڈی ڈاکٹر کام کرتی ہے اور وہ ایک بوڑھی عورت ہے۔وہ کبھی کبھی میرے ساتھ مصافحہ کرتی ہے اسکے متعلق