سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 361 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 361

سیرت المہدی 361 حصہ دوم چونکہ انبیاء کی مجلس بالکل سادہ اور ہر قسم کے تکلفات سے پاک ہوتی ہے اور سب لوگ محبت کے ساتھ باہم ملے جلے بیٹھے رہتے ہیں۔اور نبی کے لئے کوئی خاص امتیازی شان یا مسند وغیرہ کی صورت نہیں ہوتی اس لئے اجنبی آدمی بعض اوقات عارضی طور پر دھوکا کھا جاتا ہے۔402 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی عبدالکریم صاحب معہ چند خاص احباب کے مسجد مبارک کی چھت پر بیٹھے ہوئے تھے۔فرمانے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کی مجلسوں میں نمایاں فرق ہے۔حضرت اقدس کی مجلس میں ہمیشہ نمایاں خوشی اور بشاشت ہوتی ہے اور کیسا ہی غم ہوفور دور ہو جاتا ہے۔برخلاف اس کے حضرت مولوی صاحب کی مجلس میں ایک غم اور درد کی کیفیت دل پر محسوس ہوتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قلب انسانی سے مختلف قسم کی روئیں جاری ہوتی رہتی ہیں۔جن سے اس کے ارد گرد کی چیزیں متاثر ہوتی ہیں اور جس قسم کے جذبات اور احساسات کسی شخص کے دل میں غالب ہوں اسی قسم کی اس کی رو ہوتی ہے۔انبیاء چونکہ بشاشت اور نشاط اور امید اور مسرت کا مژدہ لیکر دنیا میں آتے ہیں۔اور مایوسی وغیرہ کے خیالات ان کے پاس نہیں پھٹکتے اور ان کا دل بھی خدا کے خاص الخاص افضال و برکات اور رحمتوں کا مہبط رہتا ہے۔اس لئے ان کی مجلس اور صحبت کا یہ لازمی نتیجہ ہوتا ہے کہ پاس بیٹھنے والے اس مخفی رو کے ذریعہ سے جو ان کے دل سے جاری ہوتی رہتی ہے اسی قسم کے جذبات و احساسات اپنے اندر محسوس کرنے لگ جاتے ہیں۔برخلاف اس کے بعض دوسرے لوگوں کے قلب پر چونکہ خوف اور خشیت اللہ اور خدا کی ناراضگی کے ڈر کے خیالات کا غلبہ رہتا ہے۔اس لئے ان کی مجلس بھی خاموش طور پر غم اور درد کے خیالات کا موجب ہوتی ہے۔بہر حال یہ مجلسی اثر صدر مجلس کی اپنی قلبی کیفیات کا نتیجہ ہوتا ہے۔واللہ اعلم۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی صحبت کا یہ اثر واقعی نہایت نمایاں تھا کہ انسان کا دل خوشی اور امید اور ایک گونہ استغناء کے خیالات سے بھر جاتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بس ساری دنیا اپنی ہی اپنی ہے اور یہ کہ دنیا کی ساری طاقتیں ہمارے سامنے بیچ ہیں۔