سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 350
رت المهدی 350 حصہ دوم چنانچہ نمبر وار ڈاکٹروں کی ڈیوٹی شروع ہوئی اور میری باری آنے والی تھی۔مجھے بہت تردد اور فکر ہوا کیونکہ ہر سال معہ اہل وعیال و سامان وغیرہ کے ضلع میں جانا ایک سخت مصیبت تھی اتفاقا میں چند روز کی رخصت لے کر قادیان آیا اور حضرت اقدس کی خدمت میں یہ سب ماجرا عرض کیا۔حضور نے فرمایا ، آپ فکر نہ کریں شائد آپ کی باری وہاں جانے کی نہ آوے گی۔گو آپ نے شائد کا لفظ بولا تھا لیکن میرے دل کو اطمینان ہو گیا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ انسپکٹر جنرل کی طرف سے میرے نام ایک حکم آگیا کہ تم اس ڈیوٹی سے مستثنی ہو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خاص حالات کی باتیں ہوتی ہیں اس سے یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہیے کہ جو بات بھی انبیاء فرما دیں وہ اسی طرح وقوع میں آجاتی ہے۔ابنیاء عالم الغیب نہیں ہوتے۔388 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب شروع دعوی مسیحیت میں دہلی تشریف لے گئے تھے اور مولوی نذیر حسین کے ساتھ مباحثہ کی تجویز ہوئی تھی۔اس وقت شہر میں مخالفت کا سخت شور تھا ، چنانچہ حضرت صاحب نے افسران پولیس کے ساتھ انتظام کر کے ایک پولیس مین کو اپنی طرف سے تنخواہ دینی کر کے مکان کی ڈیوڑھی پر پہرہ کے لئے مقرر کرالیا تھا۔یہ پولیس مین پنجابی تھا۔اس کے علاوہ ویسے بھی مردانہ میں کافی احمد کی حضرت صاحب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے۔389 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ۱۹۰۰ء میں پہلی دفعہ قادیان میں آیا تو حضور ان دنوں میں صبح اپنے باغ کی طرف سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔چنانچہ جب حضرت صاحب باغ کی طرف تشریف لے گئے تو میں بھی ساتھ گیا اور حضور نے شہتوت منگوا کر درختوں کے سائے کے نیچے خدام کے ساتھ مل کر کھائے اور پھر مجھے مخاطب فرما کر اپنے دعوی کی صداقت میں تقریر فرمائی۔میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ کی صداقت کے متعلق تو کوئی شبہ نہیں رہا لیکن اگر بیعت نہ کی جاوے اور آپ پر ایمان رکھا جاوے کہ آپ صادق ہیں ، تو کیا حرج ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایسے ایمان سے آپ مجھ سے روحانی فیض حاصل نہیں کر سکتے۔بیعت سنت انبیاء ہے اور اس سنت میں بہت بڑے فوائد اور حکمتیں ہیں۔چنانچہ سب سے زیادہ فائدہ یہ ہے کہ انسان کے نفسانی درخت کا جو