سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 338 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 338

سیرت المہدی 338 حصہ دوم 368 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ وہ رہن نامہ جس کے رو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا باغ حضرت والدہ صاحبہ کے پاس رہن رکھا تھا میں نے دیکھا ہے وہ با قاعدہ رجسٹری شدہ ہے اور اس کی تاریخ ۲۵ جون ۱۸۹۸ء ہے۔زررہن پانچ ہزار روپیہ ہے جس میں سے ایک ہزار نقد درج ہے اور باقی بصورت زیورات ہے۔اس رہن میں حضرت صاحب کی طرف سے مندرجہ ذیل الفاظ درج ہیں:۔اقرار یہ ہے کہ عرصہ میں سال تک فک الرہن مرہونہ نہیں کراؤں گا۔بعد میں سال مذکور کے ایک سال میں جب چاہوں زررہن دوں تب فک الرہن کرالوں۔ورنہ بعد انفصال میعاد بالا یعنی اکتیس سال کے بتیسویں سال میں مرہو نہ بالا ان ہی روپیوں میں بیع بالوفا ہو جائے گا اور مجھے دعویٰ ملکیت کا نہیں رہے گا۔قبضہ اس کا آج سے کرا دیا ہے اور داخل خارج کرا دونگا اور منافع مرہونہ بالا کی قائمی رہن تک مرتہنہ مستحق ہے اور معاملہ سرکاری فصل خریف ۱۹۵۵ ( بکرمی ) سے مرتہنہ دے گی اور پیداوار لے گی۔“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ عبارت ظاہر کرتی ہے کہ اس کے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تجویز کردہ نہیں ہیں بلکہ کسی وثیقہ نویس نے حضرت صاحب کے منشاء کو اپنے الفاظ میں لکھ دیا ہے۔369 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح حضرت صاحب نے نواب محمد علی خان صاحب کے ساتھ کیا تو مہر چھپن ہزار (۵۶۰۰۰ ) روپیہ مقرر کیا گیا تھا اور حضرت صاحب نے مہر نامہ کو باقاعدہ رجسٹری کروا کے اس پر بہت سے لوگوں کی شہادتیں ثبت کروائی تھیں اور جب حضرت صاحب کی وفات کے بعد ہماری چھوٹی ہمشیرہ امتہ الحفیظ بیگم کا نکاح خان محمد معبداللہ خان صاحب کے ساتھ ہوا تو مہر (۱۵۰۰۰) مقرر کیا گیا اور یہ مہر نامہ بھی باقاعدہ رجسٹری کرایا گیا تھا۔لیکن ہم تینوں بھائیوں میں سے جن کی شادیاں حضرت صاحب کی زندگی میں ہوگئی تھیں کسی کا مہر نامہ تحریر ہوکر رجسٹری نہیں ہوا اور مہر ایک ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا تھا۔دراصل مہر کی تعداد زیادہ تر خاوند کی موجودہ حیثیت اور کسی قدر بیوی کی حیثیت پر مقرر ہوا کرتی ہے اور مہر نامہ کا با قاعدہ لکھا جانا اور رجسٹری ہونایہ شخصی حالات پر