سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 337
سیرت المہدی 337 حصہ دوم نے فرمایا کہ عربی میں صرف ”مائی“ کہنا کافی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ یہ صرف ایک وقتی جواب بطور لطیفے کا تھا۔ورنہ یہ نہیں کہ حضرت صاحب کے نزدیک صرف یہ دلیل اس مسئلہ کے حل کے لئے کافی تھی۔366 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک ہندوستانی مولوی قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس حاضر ہو کر کہنے لگا کہ میں ایک جماعت کی طرف سے نمائندہ ہو کر آپ کے دعوئی کی تحقیق کے لئے آیا ہوں۔اور پھر اس نے اختلافی مسائل کے متعلق گفتگو شروع کر دی اور وہ بڑے تکلف سے خوب بنا بنا کر موٹے موٹے الفاظ استعمال کرتا تھا۔اس کے جواب میں جو حضرت صاحب نے کچھ تقریر فرمائی تو وہ آپ کی بات کاٹ کر کہنے لگا کہ آپ کو مسیح ومہدی ہونے کا دعوئی ہے مگر آپ الفاظ کا تلفظ بھی اچھی طرح ادا نہیں کر سکتے۔اس وقت مولوی عبد اللطیف صاحب شہید بھی مجلس میں حضرت صاحب کے پاس بیٹھے تھے ان کو بہت غصہ آ گیا اور انہوں نے اسی جوش میں اس مولوی کے ساتھ فارسی میں گفتگو شروع کر دی۔حضرت صاحب نے مولوی عبداللطیف صاحب کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا۔اور پھر کسی دوسرے وقت جب کہ مولوی عبد اللطیف صاحب مجلس میں موجود نہ تھے۔فرمانے لگے کہ اس وقت مولوی صاحب کو بہت غصہ آگیا تھا چنانچہ میں نے اسی ڈر سے کہ کہیں وہ اس غصہ میں اس مولوی کو کچھ ما رہی نہ بیٹھیں مولوی صاحب کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں دبائے رکھا تھا۔367 بسم الله الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ سیر کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا۔کہ انبیاء کے متعلق بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کو ہسٹیریا کا مرض ہوتا ہے لیکن یہ ان کی غلطی ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ انبیاء کے حواس میں چونکہ بہت غیر معمولی حدت اور تیزی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے نا واقف لوگ غلطی سے اسے ہسٹیر یا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ دراصل وہ ہسٹیریا نہیں ہوتا بلکہ صرف ظاہری صورت میں ہسٹیریا سے ملتی جلتی حالت ہوتی ہے۔لیکن لوگ غلطی سے اس کا نام ہسٹیر یا رکھ دیتے ہیں۔