سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 330
سیرت المہدی 330 در دل من آن محبت دیده کز جہاں آں راز را پوشیده با من از روئے محبت کارکن اند کے افشائے آں اسرار کن اے کہ آئی سوئے ہر جوئندہ واقعی از سوز ہر سوزنده حصہ دوم ہا زاں تعلق با که با تو داشتم زاں محبت ہا کہ در دل کاشتم خود بروں آ از پئے ابراء من اے تو کہف و ملجا و ماوائے من آتش کاندر دلم افروختی و زدم آن غیر خود را سوختی ہم ازاں آتش رخ من بر فروز ویں شب تارم مبدل گن بروز یعنی اے میرے قادر زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے ! اے میرے رحیم اور مہربان اور ہادی آقا ! اے دلوں کے بھیدوں کو جاننے والے جس پر کوئی بات بھی مخفی نہیں ہے! اگر تو مجھے شرارت اور فسق سے بھرا ہوا پاتا ہے اور اگر تو یہ دیکھتا ہے کہ میں ایک بدطینت آدمی ہوں تو تو مجھ بدکار کو پارہ پارہ کر کے ہلاک کر دے۔اور میرے اس مخالف گروہ کے دلوں کو خوشی اور راحت بخش اور ان پر اپنی رحمت کے بادل برسا اور ان کی ہر خواہش کو اپنے فضل سے پورا فرما اور اگر میں ایسا ہی ہوں جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو تو میرے درودیوار پر غضب کی آگ نازل کر اور خود میرا دشمن بن کر میرے کاروبار کو تباہ و برباد کر دے۔لیکن اے میرے آقا! اگر تو مجھے اپنے بندوں میں سے سمجھتا ہے اور اپنے آستانہ کو میرا قبلہ توجہ پاتا ہے اور میرے دل میں اس محبت کو دیکھتا ہے جسے تو نے دنیا کی نظروں سے اس کی شامت اعمال کی وجہ سے پوشیدہ رکھا ہے تو اے میرے خدا میرے ساتھ محبت کا معاملہ کر اور اس چھپے ہوئے راز کو ذرا ظاہر ہونے دے۔اے وہ کہ جو ہر تلاش کرنے والے کی طرف خود چل کر آتا ہے اور اے وہ کہ جو ہر سوز محبت میں جلنے والے کی سوزش قلب سے آگاہ ہے۔میں تجھے اس تعلق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو میرے دل میں تیرے لئے ہے اور اس محبت کو یاد دلا کر عرض کرتا ہوں کہ جس کے درخت کو میں نے اپنے دل میں نصب کیا ہے کہ مجھے ان الزاموں سے بری کر نے کے لئے تو خود اُٹھ ، ہاں اے میری پناہ اور میرے ملجاؤ و مالوے تو ایسا ہی کر۔وہ آتش محبت جو تو نے میرے