سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 323
سیرت المہدی 323 حصہ دوم رکھتا ہے اور تیری زیادہ خبر گیری کر سکتا ہے؟ پس خدا کا یہ کلام بھی اسی طرح کا ہے کہ اے میرے بندے! کیا ہم تجھے تیرے باپ کی نسبت کم چاہتے ہیں جو تو ہمارے ہوتے ہوئے باپ کے فوت ہونے پر اس طرح گھبراہٹ کا اظہار کرتا ہے؟ پس یہ ایک محبانہ کلام ہے جس کا ہر لفظ عشق و محبت میں ڈوبا ہوا ہے اور اگر کوئی دوسرا طریق کلام کا اختیار کیا جاتا جس میں یہ استفہامیہ طریق نہ ہوتا تو وہ ہرگز اس محبت کا حامل نہیں ہو سکتا جو کہ موجودہ الفاظ سے ظاہر ہورہی ہے۔پس اس الہام میں کوئی ایمانیات کا سوال نہیں ہے یعنی محض علمی طور پر اس بات کی طرف توجہ دلا نا مقصود نہیں ہے کہ خدا اپنے بندوں کی دستگیری فرمایا کرتا ہے اور اے میرے بندے تو اس حقیقت سے غافل نہ ہو بلکہ اس محبت کا اظہار مقصود ہے جو ذات باری تعالیٰ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تھی اور ایک محبت آمیز گلہ کے طریق پر اس گھبراہٹ کا دور کرنا مقصود ہے جو ایک عارضی خیال کے طور پر حضرت مسیح موعود کے دل میں والد کی وفات کی خبر پا کر پیدا ہوئی تھی اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اب پوری طرح خدا کی محبت کا مزا چکھ چکے تھے اور اس شراب طہور کے نشہ میں متوالے ہو چکے تھے جو خدائے قدوس کے اپنے ہاتھوں نے تیار کر کے آپ کے سامنے پیش کی تھی۔اس لئے حافظ نوراحمد کے والد کی وفات پر آپ کو اس سے بہتر عزا پر سی کا طریق نہ سوجھا کہ حافظ صاحب اگر اب تک آپ ایسا نہ سمجھتے تھے تو کم از کم اب سے ہی اپنے رب کو اپنے والد کی جابجا سمجھو اور اسی کو اپنی امیدوں اور اپنی محبت کا تکیہ گاہ بناؤ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ وہ نکتہ ہے جسے جس نے سمجھا وہ فلاح پا گیا۔اے میرے آقا ومولا ! مجھے کوئی حق نہیں ہے کہ تجھ سے کچھ مانگوں کیونکہ تیرا کوئی حق ادا کروں تو مانگتے ہوئے بھی بھلا لگتا ہوں۔مگر تو خود کہتا ہے کہ مانگو اور تو نے یہ شرط نہیں لگائی کہ نیک شخص مانگے اور عاصی نہ مانگے پس اپنے پاک مسیح کی طفیل جس سے کچھ دور کی نسبت رکھتا ہوں مجھ پر بھی اپنی محبت کا ایک چھینٹا ڈال تا کہ ان مردہ ہڈیوں میں کچھ جان آئے اور اس پیا سے اور جھلسے ہوئے دل میں کوئی تازگی پیدا ہو اور اے مجھے اپنی مرضی سے نیست سے ہست میں لانے والے ایسا نہ کر ہاں تجھے تیری ذات کی قسم ایسا نہ کر کہ میں اپنی شامت اعمال کی وجہ سے تیرے دروازے سے خالی ہاتھ لوٹ جاؤں۔