سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 317 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 317

سیرت المہدی 317 حصہ دوم فرمالیتے تھے۔مگر جب لیٹتے تو چراغ گل کر لیتے تھے بعض اوقات ہم آپ کو چراغ گل کرتے دیکھتے تو دل میں بہت شرمندہ ہوتے تھے ان دنوں میں حضرت صاحب بعد نماز عصر سیر کیلئے باہر تشریف لے جایا کرتے تھے۔اور کوس کوس دو دو کوس نکل جایا کرتے تھے بعض وقت مغرب کی نماز باہر ہی پڑھ لیا کرتے تھے اور مجھے امام کر لیتے تھے اور آپ خود مقتدی ہو جاتے تھے۔ایک دن آپ نے فرمایا کہ آج کس طرف سیر کو چلیں ؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت! آج قتلے کی نہر کی طرف چلیں۔حضور مسکرانے لگے اور فرمایا کہ کسی نے ایک بھوکے سے پوچھا تھا کہ ایک اور ایک کتنے ہوتے ہیں؟ تو اس نے جواب دیا کہ دو روٹیاں۔سومیاں نور محمد کا بھی یہی مطلب ہے کہ اسی راستے سے اپنے گاؤں کی طرف نکل جائیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ نور محمد صاحب پرانے اور مخلص آدمی ہیں۔ان کا گاؤں فیض اللہ چک قادیان سے قریباً چار پانچ میل کے فاصلہ پر جانب شمال مغرب آباد ہے اور موضع تقتلہ جس کا اس روایت میں ذکر ہے قادیان سے ڈیڑھ دو میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں ہے جو فیض اللہ چک کے راستہ میں پڑتا ہے۔حافظ نور محمد صاحب کی قادیان میں ابتدائی آمد کا زمانہ ۱۸۸۴ء کے قریب کا معلوم ہوتا ہے۔واللہ اعلم۔(348) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوشیار پور جا کر ٹھہرے تھے اور ماسٹر مرلی دھر آریہ کے ساتھ آپ کا مباحثہ ہوا تھا۔آپ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کے مکان پر ٹھہرے تھے۔شیخ صاحب حضرت صاحب سے بہت ادب کے ساتھ پیش آتے تھے ان دنوں میں آپ نے یہ رویا دیکھا تھا کہ شیخ مہر علی صاحب کے مکان کے فرش کو آگ لگ گئی ہے۔اور آپ نے خود پانی لے کر اسے بجھایا ہے۔اور آپ نے اس کی تعبیر یہ فرمائی تھی کہ شیخ صاحب پر کوئی بلا آنے والی ہے چنانچہ آپ نے قادیان واپس آکر شیخ مہر علی صاحب کو ایک خط کے ذریعہ اس بات کی اطلاع بھی دے دی تھی کہ میں نے ایسا خواب دیکھا ہے۔آپ بہت تو بہ واستغفار کریں۔اس کے بعد شیخ صاحب کے خلاف ایک سنگین فوجداری مقدمہ شروع ہو گیا اور ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ ہندواور مسلمانوں میں جو ہوشیار پور میں بلوہ ہوا تھا اس کے شیخ صاحب ذمہ دار ہیں۔چنانچہ شیخ صاحب ماخوذ کر