سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 266 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 266

سیرت المہدی 266 حصہ اوّل تھا۔خواہ وہ کسی مقصود کو لے کر تھا۔اور ہم خوش ہیں کہ وہ آخری دم تک اس پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغزش نہیں کھائی۔“ (۸) اخبار برہمچارک لاہور نے جو برہمو سماج کا ایک پرچہ ہے۔مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ”ہم یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مرزا صاحب کیا بلحاظ لیاقت اور کیا بلحاظ اخلاق و شرافت ایک بڑے پایہ کے انسان تھے۔“ (۹) امر تا بازار پتر کا“ نے جو کلکتہ کا ایک مشہور بنگالی اخبار ہے لکھا کہ ” مرزا صاحب درویشانہ زندگی بسر کرتے تھے اور سینکڑوں آدمی روزانہ ان کے لنگر سے کھانا کھاتے تھے۔ان کے مریدوں میں ہر قسم کے لوگ فاضل مولوی با اثر رئیس تعلیم یافتہ امیر سوداگر پائے جاتے ہیں“ (۱۰) سٹیٹسمین “ کلکتہ نے جو ایک بڑا نامی انگریزی اخبار ہے لکھا کہ ”مرزا صاحب ایک نہایت مشہور 66 اسلامی بزرگ تھے۔“ 296 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اخبار وکیل امرتسر میں جو ایک مشہور غیر احمدی اخبار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر ایڈیٹر کی طرف سے جو مضمون شائع ہوا تھا۔اس کا مندرجہ ذیل اقتباس ناظرین کے لئے موجب دلچسپی ہوگا۔اس سے پتا لگتا ہے کہ غیر احمدی مسلمان با وجود حضرت مسیح موعود کی مخالفت کے آپ کو اور آپ کے کام کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔دراصل جو کام آپ نے کیا۔وہ اس پایہ کا تھا کہ سوائے اس کے کہ کوئی مخالف اپنی مخالفت میں اندھا ہو رہا ہو اس کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور گو وہ اپنے منہ سے آپ کو مسیح موعود نہ مانیں لیکن ان کے دل بولتے تھے کہ آپ کا دم ان کیلئے مسیحائی کا حکم رکھتا ہے۔غرض وکیل نے لکھا کہ۔دو وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا۔اور زبان جادو۔وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تارا لجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹیاں تھیں۔وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تمیں برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔جوشور قیامت ہوکر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتارہا۔خالی ہاتھ دنیا سے اُٹھ گیا۔یہ تلخ موت یہ زہر کا پیالہ موت جس نے مرنیوالے کی ہستی نہ خاک پنہاں کی۔ہزاروں لاکھوں زمانوں پر تلخ کا میاں بن کے رہے گی