سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 239 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 239

سیرت المہدی 239 حصہ اوّل نے اس کے جواب میں ایک تقریر فرمائی جس میں دعا کا فلسفہ بیان کیا اور فرمایا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے ایک خاص قلبی کیفیت کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے۔جب آدمی کسی کے لئے دعا کرتا ہے تو اس کے لئے ان دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہوتا ہے یا تو اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا گہرا تعلق اور رابطہ ہو کہ اس کی خاطر دل میں ایک خاص درد اور گداز پیدا ہو جائے جو دعا کے لئے ضروری ہے اور یا اس شخص نے کوئی ایسی دینی خدمت کی ہو کہ جس پر دل سے اس کے لئے دعا نکلے۔مگر یہاں نہ تو ہم اس شخص کو جانتے ہیں اور نہ اس نے کوئی دینی خدمت کی ہے کہ اس کے لئے ہمارا دل پگھلے۔پس آپ جا کر اسے یہ کہیں کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے ایک لاکھ روپیہ دے یا دینے کا وعدہ کرے۔پھر ہم اس کے لئے دعا کریں گے۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ پھر اللہ اسے ضرور لڑکا دے دیگا۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے جا کر یہی جواب دیا۔مگر وہ خاموش ہو گئے۔اور آخر وہ شخص لا ولد ہی مر گیا۔اور اس کی جائیداد اس کے دور نزدیک کے رشتہ داروں میں کئی جھگڑوں اور مقدموں کے بعد تقسیم ہوگئی۔265 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں فخر الدین صاحب ملتانی نے کہ ابھی حضرت مسیح موعود کی وفات پر صرف دو تین ماہ ہی گزرے تھے کہ میں ایک دو اور دوستوں کے ساتھ بٹالہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی سے ملنے گیا۔میری غرض یہ تھی کہ مولوی محمد حسین سے باتوں باتوں میں حضرت صاحب کی عمر کے متعلق سوال کروں کیونکہ ان دنوں میں آپ کی عمر کے متعلق بہت اعتراض تھا۔خیر میں گیا اور مولوی صاحب کے دروازے پر آواز دی۔مولوی محمد حسین نیچے آئے اور مسجد میں آکر ملاقات کی۔میرا ارادہ تھا کہ مولوی صاحب کو اپنا احمدی ہونا ظاہر نہ کروں گا۔لیکن مولوی صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ کہاں جاتے ہو؟ تو مجھے ناچار قادیان کا نام لینا پڑا۔اور مولوی صاحب کو معلوم ہو گیا کہ میں احمدی ہوں۔خیر میں نے مولوی صاحب سے گفتگو شروع کی اور کہا کہ مولوی صاحب اور نہیں تو آپ کم از کم وفات مسیح ناصری کے تو قائل ہو ہی گئے ہو نگے۔مولوی صاحب نے سختی سے کہا کہ نہیں میں تو مسیح کو زندہ سمجھتا ہوں۔خیر اس پر گفتگو