سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 153 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 153

سیرت المہدی 153 حصہ اوّل طاقتوں کے مقابل پر کی ہے۔پس اس لحاظ سے دیکھیں تو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کی اصلاح واقعی معجز نما ہے۔کیونکہ یہ مسلمات میں سے ہے کہ اس زمانہ میں جو مخالف طاقتیں ایمان کے مقابلہ میں کام کر رہی ہیں اس کی نظیر گزشتہ زمانوں میں نہیں پائی جاتی حتی کہ خودسرور کائنات کے زمانہ سے بھی اس زمانے کے فتن بڑھ کر ہیں کیونکہ یہ دجال کا زمانہ ہے جس کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ سب نبی اس سے ڈراتے آئے ہیں۔اور خود آنحضرت ﷺ نے بھی اس سے اپنی امت کو بہت ڈرایا ہے اور اس بات پر اجماع ہوا ہے کہ دجالی فتنہ سب فتنوں سے بڑھ کر ہے اور واقعی جو مادیت اور دہریت اور دنیا پرستی کی زہریلی ہوائیں اس زمانہ میں چلی ہیں ایسی پہلے کبھی نہیں چلیں اور مذاہب باطلہ وعلوم مادی کا جو زور اس زمانہ میں ہوا ہے ایسا کبھی نہیں ہوا۔پس ایسے خطرناک زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ایسی جماعت تیار کر لینا جو واقعی زندہ اور حقیقی ایمان پر قائم ہے اور اعمال صالحہ بجالاتی ہے اور تمام مخالف طاقتوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہے ایک بے نظیر کامیابی ہے۔بے شک آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایمان کے راستہ پر شیطان کے شمشیر بردار سپاہی موجود تھے اور یہ ایک بہت بڑی روک تھی کیونکہ ایک مومن کو خون کی نہر میں سے گزر کر ایمان کی نعمت حاصل کرنی پڑتی تھی مگر جہاں ایمان کے راستہ پر شیطان نے نہ صرف یہ کہ اپنی ساری فوجیں جمع کر رکھی ہیں بلکہ اس نے ایسے سپاہی مہیا کئے ہیں جو نظر نہیں آتے مگر راہ گیروں سے ایمان کی پونچی لوٹتے چلے جارہے ہیں۔اور سوائے روحانی طاقتوں کے کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔پس حضرت مسیح موعود کی کامیابی ایک واقعی بے نظیر کامیابی ہے مگر یہ کامیابی بھی دراصل آنحضرت ﷺ ہی کی کامیابی ہے۔کیونکہ شاگرد کی فتح استاد کی فتح ہے اور خادم کی فتح آقا کی فتح۔لہذا ان حالات میں اگر حضرت مسیح موعود کی جماعت میں کوئی کمی بھی ہے تو وہ بحیثیت مجموعی جماعت کی شان کو کم نہیں کر سکتی۔چھٹی وجہ یہ ہے کہ انسانی دماغ کا یہ بھی خاصہ ہے کہ جب تک کوئی شخص زندہ ہے اس کا حسن مخفی رہتا ہے اور کمزوریاں زیادہ سامنے آتی ہیں۔یعنی عموماً تصویر کا کمزور پہلو ہی زیادہ مستحضر رہتا ہے لیکن اس کے مرنے کے بعد معاملہ برعکس ہو جاتا ہے۔یعنی مرنے کے بعد مرنے والے کی خوبیاں زیادہ چمک اٹھتی ہیں اور زیادہ یا د رہتی ہیں اور کمزوریاں مدھم پڑ جاتی ہیں اور یاد سے محو ہو جاتی ہیں۔پس حضرت مسیح موعود کی جماعت کا