سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 124
سیرت المہدی 124 حصہ اوّل اس خاندان کو سالم موضع قادیان پر جو ایک بڑا موضع ہے حقوق مالکانہ حاصل ہیں اور نیز تین ملحقہ مواضعات 66 پر بشرح پانچ فی صدی حقوق تعلقداری ہیں۔“ اقتباس مندرجہ بالا میں مصنف سے بعض غلطیاں واقعات کے متعلق ہوگئی ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے۔اول یہ کہ لکھا ہے کہ ہمارے تایا صاحب نے مرزا سلطان احمد صاحب کو متنبشی بنالیا تھا۔یہ درست نہیں ہے بلکہ امر واقع اس طرح پر ہے کہ تایا صاحب کی وفات کے بعد تائی صاحبہ کی خواہش پر ان کو کاغذات مال میں افسران متعلقہ نے بطور متبنی درج کر دیا تھا۔دوسرے مرزا سلطان احمد صاحب کو حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی خاندان کا بزرگ لکھا ہے جو درست نہیں۔تیسرے مرزا نظام الدین کو مرزا سلطان احمد صاحب کا چازاد بھائی لکھا ہے یہ غلط ہے بلکہ مرزا نظام الدین چچا تھے۔چوتھے مرزا نظام الدین کو مرزا غلام محی الدین کا سب سے بڑا لڑکا لکھا ہے یہ غلط ہے۔سب سے بڑا لڑ کا مرزا امام الدین تھا۔پانچویں حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کی پیدائش کی تاریخ ۱۸۳۹ء بیان کی ہے یہ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے تحقیقات سے صحیح ثابت نہیں ہوتی بلکہ صحیح تاریخ ۳۷-۱۸۳۶ء معلوم ہوتی ہے۔چھٹے یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے اپنے رشتہ داروں میں سے بہت ہی کم ان کے معتقد ہیں۔یہ بات غلط ہے بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ شروع شروع میں بے شک بہت سے رشتہ داروں نے مخالفت کی تھی لیکن کچھ تو تباہ ہو گئے اور بعضوں کو ہدایت ہوگئی چنانچہ اب بہت ہی کم رشتہ دار آپ کے مخالف رہ گئے ہیں اور اکثر آپ پر ایمان لاتے اور آپ کے خدام میں داخل ہیں۔علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود کی ترقی اور کامیابی کی وجہ یہ کھی ہے کہ ان کو بہت اچھی تعلیم ملی اور یہ کہ وہ ایک قابل مذہبی عالم اور مناظر تھے یہ غلط ہے کیونکہ ظاہری کسی علوم کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی بڑے عالموں میں سے نہ تھے اور نہ ہی علم مناظرہ میں آپ کو کوئی خاص دسترس تھی بلکہ شروع شروع میں تو آپ پبلک جلسوں میں کھڑے ہو کر تقریر کرنے سے بھی گھبراتے تھے اور طبیعت میں حجاب تھا مگر جب آپ کو خدا نے اس مقام پر کھڑا کیا تو پھر آپ کے اندروہ طاقت آگئی کہ آپ کے ایک ایک وار سے دشمن کی کئی کئی صفیں کٹ کر گر جاتی تھیں اور آپ کا ایک ایک لفظ خصم کی گھنٹوں کی تقریر وتحریر پر پانی پھیر دیتا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کو منہاج نبوت پر ایک مقناطیسی جذب دیا گیا تھا جس سے سعید روھیں