سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 123 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 123

سیرت المہدی 123 حصہ اوّل انتظامی امور سے تعلق تھا بہت سے سرٹیفکیٹ تھے۔یہ کچھ عرصہ تک دفتر ضلع گورداسپور میں سپرنٹنڈنٹ رہا ہے۔اس کا اکلوتا بیٹا صغرسنی میں فوت ہو گیا تھا اور اس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنی بنالیا تھا جو غلام قادر کی وفات یعنی ۱۸۸۳ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا ہے۔مرزا سلطان احمد نے نائب تحصیل داری سے گورنمنٹ کی ملازمت شروع کی اور اب اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر ہے۔مرزا سلطان احمد قادیان کا نمبر دار ہے مگر نمبر داری کا کام بجائے اس کے اس کا چچا زاد بھائی نظام دین جو غلام محی الدین کا سب سے بڑا لڑکا ہے کرتا ہے۔نظام دین کا بھائی امام دین جو ۱۹۰۴ء میں فوت ہوا دہلی کے محاصرہ کے وقت ہاؤسن ہارس میں رسالدار تھا۔اس کا باپ غلام محی الدین تحصیل دار تھا۔اس جگہ یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مرزا غلام احمد جو غلام مرتضی کا چھوٹا بیٹا تھا۔مسلمانوں کے ایک بڑے مشہور مذہبی سلسلہ کا بانی ہوا جو احمد یہ سلسلہ کے نام سے مشہور ہے۔مرزا غلام احمد ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوا تھا اور اس کو بہت اچھی تعلیم ملی۔۱۸۹۱ء میں اس نے بموجب مذہب اسلام مہدی یا مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا۔چونکہ مرزا ایک قابل مذہبی عالم اور مناظر تھا اس لئے جلد ہی بہت سے لوگوں کو اس نے اپنا معتقد بنالیا اور اب احمد یہ جماعت کی تعداد پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں تین لاکھ کے قریب بیان کی جاتی ہے۔مرزا عربی ، فارسی اور اردو کی بہت سی کتابوں کا مصنف تھا جن میں اس نے مسئلہ جہاد کی تردید کی اور یقین کیا جاتا ہے کہ ان کتابوں نے مسلمانوں پر معتد بہ اثر کیا ہے۔کئی سال تک مرزا غلام احمد نے بڑی مصیبت کی زندگی بسر کی کیونکہ اپنے مذہبی مخالفوں کے ساتھ وہ ہمیشہ مباحثوں اور جھگڑوں مقدموں میں مبتلا رہا لیکن اپنی وفات سے پہلے جو ۱۹۰۸ء میں واقع ہوئی اس نے ایسا رتبہ حاصل کر لیا تھا کہ اس کے مخالف بھی اسے عزت کی نظر سے دیکھنے لگے تھے۔اس سلسلہ کا صدر مقام قادیان ہے جہاں انجمن احمد یہ نے ایک بڑا سکول کھولا ہے اور ایک مطبع جاری کیا ہے جس کے ذریعہ سے سلسلہ کی خبروں کی اشاعت کی جاتی ہے۔مرزا غلام احمد کا روحانی خلیفہ مولوی نورالدین ہوا ہے جو ایک مشہور طبیب ہے اور چند سال مہاراجہ کشمیر کی ملازمت میں رہ چکا ہے۔مرزا غلام احمد کے اپنے رشتہ داروں میں سے اس کے مذہب کے پیرو بہت ہی کم ہیں۔