سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 113
سیرت المہدی 113 حصہ اوّل جو قضا و قدر کا مبدء ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو جائے گا۔سبحان اللہ کی شان خداوند عظیم ہے کہ ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہوا فوت ہوتا ہے اس کی وفات کو عزا پرسی کے طور پر بیان فرماتا ہے اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خدا تعالیٰ کی عزا پرسی کیا معنے رکھتی ہے۔مگر یادر ہے کہ حضرت عز و جل شانہ جب کسی کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کا ہنسنا بھی جو حدیثوں میں آیا ہے۔ان ہی معنوں کے لحاظ سے آیا ہے۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبت اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے تو بشریت کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلا ہمیں پیش آئے گا۔تب اسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا۔الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے؟ اور اس الہام نے عجیب سکیت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح میرے دل میں پھنس گیا۔پس مجھے اس خدائے عز و جل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر کے دکھلا دیا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفل نہیں ہوگا۔میرے پر اس کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ بالکل محال ہے کہ میں ان کا شمار کر سکوں اور میرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہو گئے۔یہ ایک پہلا دن تھا جو میں نے بذریعہ خدا کے الہام کے ایسا رحمت کا نشان دیکھا جس کی نسبت میں خیال نہیں کر سکتا کہ میری زندگی میں کبھی منقطع ہو۔میں نے اس الہام کو ان ہی دنوں میں ایک نگینہ میں کھدوا کر اس کی انگشتری بنائی۔جو بڑی حفاظت سے اب تک رکھی ہوئی ہے۔غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گذری۔ایک طرف ان کا دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زور شور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔میں کچھ بیان نہیں کرسکتا کہ میرا کون ساعمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الہی شامل حال ہوئی۔صرف اپنے اندر یہ