سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 65 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 65

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 65 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی لیا گیا ہے کہ اعمال نامے ظاہر کر دیے جائیں گے تو غش کھا کر گر پڑے۔(56) زید بن اسلم والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ بلال حضرت عمرؓ سے ملنے آئے وہ سوئے ہوئے تھے۔بلال نے اسلم سے پوچھا تم حضرت عمر کو کیسا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا وہ تمام لوگوں میں سے بہترین انسان ہیں۔مگر جب ناراض ہوں تو پھر معاملہ خطرناک ہو جاتا ہے۔بلال کہنے لگے اگر میں ان کے پاس ہوں اور وہ ناراض ہو جائیں تو میں ان کے سامنے قرآن پڑھنا شروع کر دونگا یہاں تک کہ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے۔(57) ایک دفعہ ایک دیہاتی نے حضرت عمرؓ کے ایک دوست حر بن قیس کے ذریعے ان کی مجلس میں آنے کی اجازت طلب کی آتے ہی کہنے لگا۔اے عمر آپ انصاف سے حکومت نہیں کرتے۔حضرت عمر نے ناراضگی سے دیکھا تو حربن قیس نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی خُذِا لَعَفْوَ وَأْمُرُ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (الاعراف: 200 ) کہ اے امیر المومنین ! ایسے لوگوں سے عفو سے کام لیں اور ایسے جاہلوں سے اعراض کریں۔راوی کہتے ہیں یہ سنتے ہی حضرت عمر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ان کے بارہ میں کہا جاتا ہے كَانَ وَقَا فَا بِالْقُرآن کہ حضرت عمر نقر آنی حکم سنتے ہی فورارک جایا کرتے تھے اور قرآنی احکام کا بہت احترام اور لحاظ کرنے والے تھے۔(58) اطاعت وحت رسول آنحضرت ﷺ سے آپ کو سچی محبت تھی اور اسوۂ رسول کو ہمیشہ مشعل راہ بناتے تھے۔اور طبعاً ظاہری شان و شوکت کا بر محل اظہار کرنے کے حق میں تھے۔ایک موقع پر جب ایک ماہ کے لئے حضور نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی۔حضرت عمر نے آپ کو بالا خانہ میں ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے اس حال میں دیکھا کہ بدن پر چٹائی کے نشان تھے۔انہوں نے بے قرار ہو کر آپ سے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ قیصر و کسری تو کیسی شان میں اور آرام میں ہیں اور خدا کا رسول جن کے لئے یہ دنیا بنائی گئی ہے اس حال میں کہ چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں جس سے بدن پر بدھیاں پڑگئی ہیں؟ آنحضرت نے فرمایا اے عمر یہ دنیا ان لوگوں کو مبارک ہو جو اس کی فکر کرتے ہیں۔(59) سادگی