سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 57 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 57

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 57 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ و فضل کے متعلق اپنی ایک رؤیاء بیان فرمائی جس میں آپ نے دیکھا کہ ” آپ نے دودھ پیا اور اتنا سیر ہوکر پیا کہ وہ آپ کے ناخنوں سے باہر نکلنے لگا۔پھر آپ نے یہ برتن حضرت عمر کو دے دیا۔صحابہ نے پوچھا کہ آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ؟ آپ نے فرمایا اس کی تعبیر علم ہے۔حضرت عمرؓ نے میرے علم سے وافر حصہ پایا ہے۔“ دوسری رؤیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے خواب میں بعض لوگوں کو قمیصیں پہنے دیکھا ہے۔بعض اصحاب نے تو بہت چھوٹے چھوٹے قمیص پہنی ہوئے تھے بعض کے قمیص ان کے کندھوں تک آرہے ہیں تو کسی کے سینے تک اور بعض کے پیٹ تک ، مگر حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ کہ ان کا قمیص بہت لمبا ہے۔اتنا لمبا کہ وہ اسے ٹخنوں سے نیچے زمین پر گھسیٹتے ہوئے آرہے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا اس کی کیا تعبیر ہے؟ رسول اللہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی تعبیر دین سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عمر کو دین میں خاص دسترس عطا فرمائی ہے۔اور دین کا وافر حصہ انہیں کو بخشا ہے۔“ (32) حضرت عبداللہ مسعودؓ کہتے تھے کہ اگر حضرت عمر کا علم ایک پلڑے میں رکھا جائے اور باقی لوگوں کا علم دوسرے پلڑے میں تو عمر کا پلڑا بھاری ہو جائے۔‘ (33) حضرت عمر کو آئندہ جن عظیم الشان خدمات کی توفیق ملنے والی تھی ، ان کا تذکرہ بھی آنحضور ﷺ کی ایک عظیم الشان رویا میں ملتا ہے۔حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا ” میں نے۔دیکھا کہ میں ایک ڈول کے ذریعہ سے کنوئیں سے پانی نکال رہا ہوں۔پھر حضرت ابوبکر ایک دو ڈول نکالتے ہیں مگر کمزوری سے۔ان کے بعد حضرت عمرؓ کے آتے ہی اچانک ڈول کی جسامت بڑھ جاتی ہے۔فرمایا میں نے کبھی ایسا جوان مرد نہیں دیکھا جو اس شان کے ساتھ پانی کھینچے جیسے عمر نے یہ کام کیا۔اور اس ڈول سے اتنا پانی نکالا کہ تمام لوگوں نے خوب پیا اور سیر ہو گئے اور تمام جانوروں نے بھی پیا اور سیر ہو گئے۔‘(34) اس رویا میں دراصل حضرت عمرؓ کی اُن خدمات کی طرف اشارہ تھا جو ان کے دور خلافت میں مقدر تھیں۔چنانچہ اپنے عہد خلافت میں انہیں عظیم الشان خدمت اور کارناموں کی توفیق ملی۔اُن میں ایک اہم خدمت نظام خلافت کا استحکام ہے۔اس کے علاوہ نظام شوری احتساب کے محکمہ کا