سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 56
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 56 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کیا جائے۔عام شہروں کے باشندوں کے بارے میں بھی میں نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ اسلام کی ڈھال، آمدنی کا ذریعہ اور دشمن کے لئے رعب و دبدبہ کا موجب ہیں۔ان سے ان کی خوشی کے مطابق صرف بچت میں سے ہی ٹیکس لئے جائیں۔میں عرب کے بدوؤں کے بارے میں بھی نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ عرب کی جڑ اور مسلمانوں کی جمعیت ہیں۔ان کے زائد اموال میں سے کچھ لے کر ان کے فقراء میں تقسیم کر دیا جائے۔میں خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد پورا کیا جائے اور عام رعایا کے عہد بھی پورے کئے جائیں اور ان کی حفاظت کی خاطر جنگ بھی کرنی پڑے تو کی جائے اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالے جائیں۔“ (29) ازواج واولاد اسلام کی خاطر حضرت عمرؓ نے ہر قسم کی قربانیاں دیں۔اپنا گھر بار اور ازواج خدا کی خاطر جس چیز کو چھوڑنا پڑا چھوڑ دیا۔دو بیویوں کو مشرک ہونے اور مکہ میں رہ جانے کے باعث طلاق دینا پڑی۔ایک مکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں فوت ہو گئیں۔ایک اور بیوی کو بھی طلاق کی نوبت آئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے بہتر ازواج عطا فرمائیں۔ایک شادی عاتکہ بنت زید سے ہوئی۔(30) رسول اللہ سے حضرت حفصہ کے ذریعہ مصاہرت کا رشتہ تھا۔خاندان نبوت سے مزید تعلق کی خاطر ۱۷ھ میں حضرت فاطمہ اور حضرت علی کی صاحبزادی ام کلثوم سے حضرت عمر نے عقد کیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ قیامت کے دن سبب اور نسب منقطع ہو گا سوائے میرے سبب اور نسب کے، میں پسند کرتا ہوں کہ رسول اللہ سے میرا تعلق سہمی ونسبی پختہ ہو۔“ چنانچہ حضرت علی نے اپنی بیٹی ام کلثوم امام حسین و حسن کے مشورہ سے حضرت عمر کو بیاہ دی۔(31) مختلف بیویوں سے نو بیٹے تھے۔جن میں عبداللہ کے علاوہ عبید اللہ اور عاصم علم وفضل میں خاص مشہور ہوئے۔وہ رسول اللہ اللہ کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔علم وفضل حضرت عمر کو اللہ تعالیٰ نے خاص علم اور فضل سے نوازا تھا۔آنحضور ﷺ نے ایک دفعہ علم