سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 50 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 50

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 50 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خواہش نہ تھی میرا خیال تھا کہ شاید ابو بکر وہ بات نہ کرسکیں گے۔مگر ابو بکر نے جب بات کی تو خوب اس کا حق ادا کیا اور فرمایا کہ ”ہم مہاجرین اور انصا مل کر یہ نظام چلائیں گے۔ہم امراء ہوں گے تو تم ہمارے وزیر ہو گے۔بے شک عمر کی بیعت کر لو یا ابو عبیدہ کی۔“ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا نہیں بلکہ اے ابوبکر! ہم آپ کی بیعت کریں گے کہ آپ اور صرف آپ ہی ہمارے سردار اور ہمیں سب سے پیارے ہیں۔پھر حضرت عمرؓ نے ابو بکر کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کی درخواست کی۔(14) حضرت ابوبکر کی بیعت کے بعد حضرت عمران کے دست راست مشیر اور وزیر کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔حضرت ابوبکر نے خلافت کی مصروفیات کے باعث قضا کے معاملات حضرت عمرؓ کے سپر دفر ما دئے تھے۔اس لحاظ سے آپ اسلام کے پہلے با قاعدہ قاضی تھے۔(15) منصب خلافت اور پہلی تقریر حضرت ابو بکر نے آخری بیماری میں حضرت عمرؓ کو خلیفہ نامزد فرمایا۔ان کی سخت طبیعت کی وجہ سے بعض لوگوں کو پریشانی ہوئی۔حضرت طلحہ اور حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکر سے عرض کیا کہ آپ نے کے جانشین مقرر کیا ہے۔فرمایا ”عمر کو عرض کیا خدا کے حضور کیا جواب دیں گے فرمایا ” میں عمرہ کو تم دونوں سے زیادہ جانتا ہوں۔میں خدا کی بارگاہ میں عرض کروں گا کہ میں نے موجود لوگوں میں سے سب سے بہتر کو جانشین مقرر کیا۔حضرت ابوبکر کی وفات جمادی الآخر 13 ھ میں ہوئی اور حضرت عمر مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔آپ نے اپنی پہلی تقریر میں فرمایا ”اے لوگو! مجھے تمہارے ذریعہ اور تمہیں میرے ذریعہ میرے دونوں ساتھیوں کے بعد آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔جو لوگ ہمارے سامنے موجود ہیں ان سے ہم خود معاملہ کریں گے اور جو یہاں نہیں وہاں مضبوط اور امانت دار والی مقرر کر دیں گے۔جو نیکی کرے گا ہم اس سے حسن سلوک کریں گے اور جو برائی کا مرتکب ہوگا ہم اسے سزا دیں گے۔اللہ آپ کو اور ہمیں معاف فرمائے۔پھر خدا کے حضور یہ دعا کی اے اللہ میں سخت ہوں مجھے نرم کر دے، میں کمزور ہوں مجھے طاقتور کر دے، میں بخیل ہوں مجھے بھی بنادے۔“ (16) فتوحات عمرة ۱۳ھ میں جب حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق حضرت عمر خلیفہ