سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 46 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 46

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 46 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسے تمہارے لئے چھوڑ دیں گے۔“ حضرت عمرؓ کے رشتے کے ماموں عاص بن وائل کو اس شدید مخالفت کا پتہ چلا تو انہوں نے حضرت عمر کو اپنی پناہ میں لینا چاہا۔حضرت عمرؓ جیسے بہادر انسان نے گوارا نہ کیا کہ ان کے کمزور مسلمان بھائی تو ماریں کھائیں اور صبر سے مظالم برداشت کریں اور وہ حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے اپنے طاقتور رشتہ داروں کی پناہ لے لیں۔انہوں نے حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور آنحضرت مہ سے درخواست کی کہ خانہ کعبہ جا کر اعلانیہ نماز ادا کی جائے۔آنحضرت مسلمانوں کو ہمراہ لے کر حضرت عمرؓ کے ساتھ صحن کعبہ میں پہنچے اور وہاں نماز ادا کی گئی۔مکہ میں یہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں نے اعلامیہ اسلام کا اظہار کیا۔رسول خدا ﷺ نے حضرت عمرؓ کو فاروق“ کا لقب عطا فر مایا۔یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا وجود۔(6) ہجرت مدینہ جب مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت ہوئی تو حضرت عمرؓ نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا اور ہجرت بھی بڑی شان سے کی۔نبی کریم عہ سے اجازت لے کر چند ساتھیوں کے ہمراہ پہلے خانہ کعبہ پہنچے۔طواف کر کے مشرکین کو مخاطب کر کے کہا ” آج جس نے بھی میرا مقابلہ کرنا ہے حرم مکہ سے باہر آ کر کرئے، لیکن کسی کو اس کی ہمت نہ ہوئی۔حضرت عبداللہ بن مسعود کہا کرتے تھے کہ حضرت عمر کے قبول اسلام کے بعد ہم اپنے آپ کو طاقتور محسوس کرنے لگے تھے۔(7) مدینہ پہنچ کر حضرت عمرؓ نے نواحی بستی قبا میں قیام کیا پھر آنحضرت ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے۔مؤاخات کا سلسلہ قائم ہوا تو قطبہ بن مالک انصاری حضرت عمر کے اسلامی بھائی قرار پائے۔اذان کا مشورہ حضرت عمر اب آنحضرت ﷺ کے قریبی ساتھی اور مشیر بھی تھے انہیں بہت عمدہ اور صائب مشورے پیش کرنے کی توفیق ملی۔مدینہ میں پنجگانہ نمازوں کے اوقات کی تعیین کے مسئلے پر جب مشورہ ہوا تو صحابہ نے آگ جلا کر ، سینگ پھونک کر یا ناقوس بجا کر لوگوں کو اکٹھا کرنے کی تجاویز دیں۔حضرت عمرؓ نے یہ مشورہ دیا کہ کیوں نہ ایک آدمی مقرر کیا جائے جو لوگوں کو نماز کے لئے بلائے۔رسول اکرم ﷺ کو یہ تجویز پسند آئی اس کے بعد اذان کے کلمات رؤیا کے ذریعے حضرت