سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 476 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 476

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 476 حضرت جابر بن عبد الله حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ حضرت جابر بن عبد اللہ بن عمر و بن حرام وہ جواں سال صحابی ہیں جن کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا۔والدہ نسیبہ بنت عقبہ بن سلمہ میں سے تھیں۔آپ وہ خوش نصیب انصاری ہیں جنہیں کم سنی میں اپنے والد کے ساتھ بیعت عقبہ ثانیہ میں شرکت کرنے اور اسی سال حج کے موقع پر مکہ میں اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ کے دادا عمر و اپنے خاندان کے رئیس تھے۔ان کے بعد جابر تھے۔ان کے والد عبداللہ نے ریاست سنبھال لی بیعت عقبہ کے موقع پر جابز کے والد حضرت عبداللہ بنو حرام کے نقیب مقرر ہوئے۔بدر اور احد میں حضرت عبداللہ کو شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔گھر میں ان کی کم سن بیٹیاں تھیں جن کی نگہداشت کے لئے حضرت جابڑ کو گھر میں رکنا پڑا اور وہ بدر، احد میں شریک نہ ہو سکے۔(1) والد کی شہادت غزوہ احد میں جاتے ہوئے آپ کے والد نے یہ نصیحت کی کہ میں احد میں خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاؤں تو میرے بعد اپنی بہنوں کا خاص خیال رکھنا۔ان کی نگہداشت کرنا (2) نیز وصیت کی کہ یہود سے جو قرض میں لے چکا ہوں وہ میرے کھجور کے باغات سے ادا کر دینا۔حضرت عبداللہ اسی جذ بہ شوق شہادت کے ساتھ غزوہ احد میں شریک ہوئے اور جام شہادت نوش کیا۔وہ بہت بہادری اور بے جگری سے لڑے تھے جس کا دشمن نے بھی خوب انتقام لیا۔چنانچہ حضرت عبداللہ کی شہادت کے بعد ان کی نعش کا مثلہ کیا گیا اور ناک ، کان کاٹ دئے گئے۔چہرے کا حلیہ بگاڑ دیا گیا۔حضرت عبد اللہ کی نعش پر جب ان کی بہنیں آئیں اور ان کے چہرے پر سے چادر اٹھائی تو بے اختیار آہ وزاری کرنے اور رونے لگیں، آنحضرت ﷺ نے ان کا یہ حال دیکھا تو ان کو دلاسا اور تسلی دلاتے صلى الله ہوئے فرمایا تَبْكِيْنَ اَوْ لَا تَبْكِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُظِلُّهُ کہ تم روویانہ رو ملائکہ اس عظیم الشان شہید پر بدستور سایہ (رحمت) کئے رہے جب تک کہ اس کے جنازے کو اٹھایا نہیں گیا۔(3)