سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 464 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 464

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 464 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ قیام کروں گا۔حضور نے فرمایا کہ زمین میں جو کچھ ہے اگر وہ سب بھی تم خرچ کر ڈالو تو جولوگ حسب ہدایت علی اصبح مہم پر روانہ ہو کر سبقت لے گئے وہ اجر اور ثواب تم ہرگز نہیں پاسکتے۔‘ (5) گویا تمہارے لئے جمعہ کی خاطر پیچھے رہنے سے زیادہ متقدم تعمیل حکم کی خاطر جہاد کیلئے نکلنا تھا۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے یہ نصیحت ہمیشہ کیلئے پلے باندھ لی اور اسے اپنی زندگی کا معمول بنالیا۔چنانچہ اس کے بعد جب کسی غزوہ یا مہم کیلئے جانا ہوتا تھا تو حضرت عبداللہ بن رواحہ نسب سے پہلے اس دستے میں شامل ہوتے اور سب سے آخر میں مدینہ واپس لوٹا کرتے تھے تا کہ آپ ان میں شرکت کے ثواب سے محروم نہ رہ جائیں۔(6) کئی غزوات میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو شرکت کی سعادت عطا ہوئی۔بلند پایه پاکیزہ شاعری آپ ایک بہت بلند پایہ شاعر تھے۔آنحضرت ﷺ کے دربار کے شعراء میں حضرت کعب بن مالک اور حضرت حسان بن ثابت کے علاوہ یہ تیسرے بلند پایہ شاعر تھے جن کی شاعری رزمی تھی۔جنگوں کے موقع پر آپ کی اس شاعری کے جو ہر خوب کھلتے تھے۔آپ مجاہدین کو خوب جوش دلاتے تھے۔چنانچہ غزوہ خندق کے موقع پر آپ کے یہ اشعار صحابہ کرام آپ کے ساتھ مل کر پڑھتے تھے۔اللَّهُمَّ لَو لَا أَنتَ مَا اهْتَدَيناً وَلَا تَصَدَّ قُنَا وَلَا صَلَّيْنَا اے اللہ اگر تو ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔نہ ہمیں صدقہ دینے کی توفیق ملتی نہ نمازیں پڑھنے کی توفیق عطا ہوتی۔فَانُزِلَنُ سَكِينَةٌ عَلَيْنَا وَثَبَتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَا قِينَا یعنی ” اے اللہ اس نازک ابتلاء کے دور میں ہم پر اپنی سکینت نازل کیجئیو اور دشمن کے ساتھ جب ہمارا مقابلہ ہو تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔“ کیسا عمدہ اور دعاؤں پر مشتمل پاکیزہ کلام ہے جو حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی رزمیہ شاعری میں ہمیں نظر آتا ہے، جس میں نہ صرف اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کے تشکر کا خوبصورت رنگ غالب ہے بلکہ وجوہات جنگ تک بیان ہیں کہ إِنَّ العِدَا قَدْ بَغَوا عَلَيْنَا إِن أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَينا