سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 462
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 462 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن رواحہ حضرت عبداللہ بن رواحہ کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو خزرج سے تھا۔والدہ کبشہ بنت واقب تھیں۔ابو محمد اور ابو رواحہ کی کنیت سے مشہور تھے۔معروف صحابی رسول نعمان بن بشیر کے ماموں تھے۔آپ کا شمار ایمان میں سبقت لے جانے والے ان ابتدائی صحابہ میں ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے پاک کلام میں السَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ ( یعنی سب سے پہلے آگے بڑھنے والے) کے خطاب سے نوازا گیا۔بیعت میں سعادت حضرت عبد اللہ کو عقبہ ثانیہ کے موقع پر ستر صحابہ کے ساتھ بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ ان بارہ نقباء (سرداروں ) میں بھی شامل تھے جنہیں رسول کریم ﷺ نے انصار کے مختلف قبیلوں کی نگرانی سپر دفرمائی تھی۔بنو الحارث بن خزرج کے آپ نقیب مقرر ہوئے تھے۔علم کتابت سے آشنا تھے اور آنحضرت نے کیلئے آپ کتابت کی خدمت بھی بجالایا کرتے تھے۔نبی کریم ﷺ جب مدینے تشریف لائے اور مواخات کا نظام قائم ہوا تو مقداد بن اسود کندی سے آپ کا اسلامی بھائی چارہ ہوا۔(1) غزوات میں شرکت مدینہ پر کفار مکہ کے حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تو مسلمانوں کو جوابی کاروائی کیلئے دفاعی مہمات منظم کرنا پڑیں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو بھی ان میں شرکت کی توفیق ملی اور اپنی زندگی کے آخری غزوہ موتہ تک ان جملہ غزوات میں وہ شریک ہوتے رہے (2) غزوہ بدر میں بھی وہ شریک تھے بلکہ فتح بدر کے بعد آنحضرت ﷺ نے مدینہ کی نواحی بستیوں میں خوشخبری پہنچانے کیلئے جس شخص کا انتخاب کیا وہ حضرت عبداللہ بن رواحہ تھے جنہوں نے وہاں جا کر مسلمانوں کو فتح کی نوید سنائی۔اگلے سال بدرا الموعد کیلئے جب نبی کریم معتہ تشریف لے گئے تو مدینہ میں اپنا جانشین اور امیر