سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 443
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 443 حضرت ابودجانہ انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ اللہ کی تلوار اُحد کے معرکہ کا وہ حیرت انگیز اور شاندار واقعہ آپ ہی سے متعلق ہے جب آنحضرت مع نے اپنی تلوار فضا میں لہراتے ہوئے پوچھا تھا کہ کوئی ہے جو آج میری اس تلوار کا حق ادا کرے؟ کون تھا جسے اس اعزاز کی تمنا نہ ہو۔تمام صحابہ صدق دل سے یہ خواہش رکھتے تھے کہ اے کاش ! حضور کی یہ زائد تلوار جو آپ نے کسی تلوار کے دھنی کے لئے سنبھال رکھی ہے آج ہاتھ آجائے اور وہ میدان وغا میں بہادری کے جوہر دکھا سکیں آنحضرت ﷺ نے دوبارہ فرمایا کون ہے جو یہ تلوار اس عہد کے ساتھ لے کہ اس کا حق ادا کرے گا۔صحابہ خاموش سوچ ہی رہے ہونگے کہ اس تلوار کا کیا حق ہمیں ادا کرنا ہوگا ؟ ابودجانہ وہ دبنگ اور متوکل انسان تھے کہ ایک عارفانہ شان کے ساتھ آگے بڑھے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں یہ عہد کرتا ہوں کہ اس تلوار کا حق ادا کر کے دکھاؤں گا۔یہ تلوار مجھے عطا فرمائیے۔آنحضرت ﷺ نے آپ کا عزم و حوصلہ دیکھ کر تلوار ان کے حوالہ کردی۔پھر ابودجانہ نے جرات کر کے عرض کیا یا رسول اللہ اب یہ بھی تو فرما دیجئے کہ اس تلوار کا کیا حق مجھے ادا کرنا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا ” یہ تلوار کسی مسلمان کا خون نہیں بہائے گی دوسرے کوئی دشمن کافر اس سے بچ کے نہ جائے اور پھر ابودجانہ نے واقعہ تلوار کا یہ حق ادا کر کے دکھا دیا۔وادی احد گواہ ہے کہ وہ تلوار کفار کی گردنوں اور کھوپڑیوں پر چلی اور خوب چلی اور انہیں تہ تیغ کر دکھایا۔(3) ابود جانہ تلوار لہراتے اور یہ رجز گاتے ہوئے میدانِ اُحد میں نکلے۔اَنَا الَّذِي عَاهَدَ نِي خَلِيلِي وَنَحنُ بِالسَّفْحِ لَدَى النَّخِيلِ اَنْ لَّا اَقُوْمَ الدَّهْرَ فِى الكُيُولُ أَضْرِبٌ بِسَيفِ اللَّهِ وَالرَّسُولِ یعنی آج میرے پیارے دوست اور میرے آقا حضرت محمد نے مجھ سے ایک عہد لیا۔ہاں! کھجوروں کے دامن میں، پہاڑوں کی اس گھائی میں یہ عہد آپ نے مجھ سے لیا کہ میں آپ کی اس تلوار کا حق ادا کر کے دکھاؤں اور خدا اور اس کے رسول کی تلوار کے ساتھ دشمنوں کی گردنیں ماروں۔حضرت ابو دجانہ یہ تلوار لے کر اکڑتے ہوئے میدانِ جہاد میں نکلے اور صفوں میں جاکر کھڑے ہو گئے ، آنحضرت ﷺ نے جب ابودجانہ کی یہ چال دیکھی تو فرمایا کہ عام حالات میں