سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 442 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 442

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 442 حضرت ابودجانہ انصاری حضرت ابودجانہ انصاری رضی اللہ عنہ نام سماک بن خرشتہ تھا۔بعض نے سماک بن اوس بن خرشہ لکھا ہے۔بنوخز رج قبیلے سے تعلق تھا، والدہ حزمہ بنت ہرملہ تھیں۔حضرت سعد بن عبادہ سردار قبیلہ خزرج کے چازاد بھائی تھے۔ہجرت سے قبل اسلام قبول کرنے کی سعادت عطا ہوئی ، نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے اور مسلمانوں میں باہم مواخات کا سلسلہ جاری فرمایا تو عتبہ بن غزوان کے ساتھ حضرت ابودجانہ کی مواخات قائم کر کے دونوں کو بھائی بھائی بنادیا۔بدر اور احد میں شجاعت حضرت ابودجانہ کو رسول اللہ علیہ کی معیت میں تمام غزوات میں شامل ہونے کی سعادت ملی۔غزوہ بدر میں نہایت بہادری سے شرکت کی۔شجاعت اور مردانگی میں آپ کا ایک خاص انداز تھا۔سرخ رنگ کی پٹی سر پر باندھ لیتے۔یہ خونی رنگ کا کفن اس بات کا اظہار ہوتا کہ جان ہتھیلی پر رکھ کر شہادت کے لئے تیار اور آمادہ ہو کر خدا تعالیٰ کی راہ میں آیا ہوں۔غزوہ اُحد میں بھی شرکت کی جب دوبارہ مسلمانوں پر کفار کا حملہ ہوا اور اس کی تاب نہ لاکر کا بعض مسلمانوں کو مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا تو آنحضرت تنہا میدان میں رہ گئے۔جو چند صحابہ آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے ان میں حضرت ابودجانہ بھی تھے۔اس موقع پر آنحضرت نے موت پر صحابہ کی بیعت لی۔ابودجانہ بیعت کرنے والوں میں بھی شامل تھے۔(1) احد میں دوبارہ جب گھمسان کا رن پڑا تو آنحضرت ﷺ کا خاص دفاع کرنے والے اور آپ کے آگے پیچھے اور دائیں اور بائیں لڑنے والے صحابہ میں طلحہ قریشی اور ابوطلحہ انصاری کے علاوہ ایک حضرت مصعب بن عمیر تھے۔جنہوں نے اس راہ میں اپنی جان فدا کر نے کا حق ادا کر دکھایا۔دوسرے صحابی حضرت ابودجانہ تھے جو آنحضور ﷺ کا دفاع کرتے انتہائی زخمی ہو گئے۔انہیں بہت زخم آئے مگر حضور ﷺ کی حفاظت سے پیچھے نہیں ہے۔(2)