سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 27 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 27

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 27 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بارہ میں نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ انسان کی تقدیر خیر وشر کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔تو پھر اعمال کی کیا ضرورت ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اعمال میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو پابند نہیں رکھا۔اختیار دیا ہے کہ جو عمل نیک یا بد چاہے کرے پھر وہ تقدیر کے مطابق انجام کو پہنچتا ہے۔(63) استحکام خلافت حضرت ابو بکر کے ذریعہ تقر رخلافت کے دونوں طریق یعنی انتخاب اور نامزدگی کھل کر واضح ہو گئے اور اس سے بھی آئندہ نظام خلافت کو ایک استحکام نصیب ہوا۔حضرت ابو بکر کثرت رائے اور انتخاب کے ذریعہ خلیفہ مقرر ہوئے تھے جب انصار اور مہاجرین کے گروہ نے آپ کی بیعت کر کے خلیفہ تسلیم کر لیا۔پھر خود حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کو اپنے بعد اہل رائے اصحاب کے مشورہ سے نشین مقرر کر کے بتادیا کہ تقر رخلافت کا دوسرا طریق نامزدگی ہے۔(64) اطاعت رسول عالي حضرت ابوبکر میں استغناء اور اطاعت رسول کا نہایت اعلی جذبہ تھا۔ایک دفعہ نبی کریم ہے نے سوال کرنے سے منع فرمایا۔اس ارشاد کی کامل اطاعت کر کے دکھائی صحابہ بیان کرتے ہیں کہ بسا اوقات حضرت ابو بکر اونٹنی پر سوار ہوتے۔اونٹ کی رسی ہاتھ سے چھوٹ جاتی اونٹ کو بٹھا کر خود نیچے اتر کر اپنے ہاتھ سے رسی اٹھاتے۔صحابہ عرض کرتے کہ آپ ہمیں حکم فرماتے وہ جواب دیتے میرے حبیب رسول اللہ نے مجھے حکم دیا تھا کہ لوگوں سے سوال نہیں کرنا (65) سبحان اللہ ! کیسا عجیب استغناء ہے اور کیسی شاندار انکساری۔تواضع و انکسار اور پہلی تقریر حضرت ابو بکر میں تواضع اور انکسار تو جیسے کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔انہوں نے غربت اور انکساری کا لباس اختیار کر لیا تھا۔ان کی تواضع گفتگو سے صاف جھلکتی نظر آتی ہے۔خلافت کے پہلے انتخاب کے موقع پر آپ نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ کے نام لئے اور جب خلیفہ ہوئے تو اپنی پہلی تقریر میں اپنے انکسار کا یوں اظہار کیا کہ ” میں تو چاہتا تھا کہ یہ ذمہ داری میرے علاوہ کوئی اور