سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 388
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 388 حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری رضی اللہ عنہ واپس آئے تو پو چھا رسول کریم نے کچھ فرمایا بھی تھا؟ انہوں نے بتایا کہ حضور نے پوچھا تھا کہ جابر! گوشت لائے ہو؟ حضرت عبداللہ نے کہا اچھا میرے آقا کو گوشت کی خواہش ہے۔اسی وقت اپنے گھر کی بکری ذبح کی اور بھنا ہوا گوشت تیار کر کے حضور کی خدمت میں بھجوایا۔رسول کریم کی زبان مبارک سے انصار اور ان کے خاندان کیلئے دل سے خاص دعا نکلی۔آپ نے فرمایا اے انصار اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا عطا کرے۔خاص طور پر عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کے خاندانوں کو‘ (3) غزوات میں شرکت حضرت عبداللہ کو غزوہ بدر میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔اسی طرح غزوہ احد میں بھی شریک ہوئے اور خدا کی راہ میں اپنی جان کی قربانی کی خواہش لے کر گئے۔اپنی کم سن نوجوان لڑکیوں کے یتیم ہونے کا خوف انہیں اس عظیم سعادت سے روک نہ سکا۔معلوم ہوتا ہے انہیں کسی رؤیا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت شہادت کی اطلاع دے دی تھی۔میدان احد میں جاتے ہوئے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ ” مجھے امید ہے کل سب سے پہلے مجھے شہادت کی سعادت عطا ہو گی۔میری موت کے بعد تم اپنی بہنوں کا خاص خیال رکھنا اور یہود کے قرض میرے کھجور کے باغات میں سے ادا کر دینا۔(4) شہادت حضرت عبد اللہ کا سچا جذبہ شہادت خدا کے ہاں ایسا مقبول ٹھہرا کہ غزوہ احد میں مسلمانوں میں سب سے پہلے وہی شہید ہوئے۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد اور ماموں احد میں شہید ہوئے تو میری والدہ ان کی نعشیں اٹھا کر مدینہ لے آئیں۔پھر نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد معلوم ہوا کہ شہداء احد کو ان کی شہادت کی جگہ ہی دفن کرنا ہے تو انہیں واپس لے جا کر وادی احد میں دفن کیا گیا۔(5) تدفین