سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 387
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 387 حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام انصاری رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام انصاری نام عبد اللہ بن عمرو بن حرام انصاری رنگ سرخ اور قد درمیانہ تھا۔اپنے والد عمر و سے قبیلہ بنو سلمہ کی سرداری ورثہ میں پائی۔والدہ رباب بنت قیس تھیں۔حضرت جابر انصاری کے والد اور ابو جابر کی کنیت سے معروف تھے۔باپ بیٹا دونوں نے عقبہ ثانیہ میں شریک ہوکر رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی توفیق پائی اور عبداللہ رسول کریم ﷺ کی طرف سے قبیلہ کے نقیب اور سردار مقرر ہوئے۔(1) قبول اسلام حضرت کعب بن مالک انصاری بیان کرتے ہیں کہ 13ھ میں ( ہم انصار مدینہ حج کیلئے ملکہ گئے تو ) رسول اللہ اللہ کے ساتھ عقبہ میں منی کے درمیانی دن ہماری ملاقات طے ہوئی۔جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو ہمارے ساتھ جائڑ کے والد عبد اللہ بن حرام بھی تھے۔وہ ہمارے سرداروں اور معززین میں سے تھے۔ہم اپنی قوم کے مشرکوں سے اس وقت تک رسول اللہ ﷺ اور اسلام کا معاملہ مخفی رکھ رہے تھے۔تب ہم نے ان سے بات کی کہ آپ ہمارے سردار اور معزز انسان ہیں مگر جس شرک پر آپ قائم ہیں ہم اس سے بیزار ہیں۔ہم پسند نہیں کرتے کہ آپ اس کے نتیجہ میں جہنم کا ایندھن بنیں۔پھر ہم نے انہیں اسلام کے بارہ میں بتایا اور رسول کریم سے عقبہ میں ملاقات کا ذکر کیا۔انہوں نے بھی ہمارے ساتھ بیعت عقبہ میں شریک ہو کر اسلام قبول کر لیا اور اپنے قبیلہ بنوسلمہ کے نقیب مقرر ہوئے۔(2) صلى الله رسول کریم ﷺ سے محبت حضرت عبد اللہ بن عمرو نے عقبہ میں جو عہد رسول اللہ سے باندھا تھا، اس کا حق خوب ادا کیا۔انہیں رسول کریم سے والہانہ عشق تھا۔ہجرت کے بعد ابتدائی مدنی دور میں رسول اللہ کی خدمت اور خوشنودی کی خاطر ہمیشہ کمر بستہ رہتے تھے۔ایک دفعہ گھر میں کوئی میٹھی چیز کھیر وغیرہ تیار ہوئی۔اپنے بیٹے حضرت جابر سے کہا کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بھی تحفہ پیش کر کے آئیں۔جب وہ