سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 377
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 377 حضرت اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ تلاوت کرتے رہتے تو خواہ دن چڑھ جاتا ایک دنیا یہ نظارہ کرتی کہ تم تلاوت کر رہے ہو اور آسمان سے ایک نور کا نزول ہو رہا ہے اور قمقمے جگمگ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔‘ان نورانی کیفیات کا ایک عجیب گہرا تعلق حضرت اسید بن حضیر کی زندگی کے ساتھ وابستہ نظر آتا ہے۔(7) جس کا ذکر سورۃ انفال کی آیت 30 میں بھی ہے کہ "اے مومنو! اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ایسا امتیازی نشان پیدا کر دے گا اور ایسا نور عطا کرے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے۔“ حضرت اسید انصار کے سرداروں میں سے تھے بعض دفعہ آنحضرت علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر رات گئے تک آپ سے مشورے کرتے تھے۔ایک ایسی ہی تاریک رات کا واقعہ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر اور انکے ساتھ ایک اور صحابی حضرت عباد بن بشر آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور کے پاس دیر تک مشورے کرتے رہے۔جب یہ لوگ گھروں کو واپس لوٹنے لگے تو بہت تاریکی تھی دونوں صحابہ کے ہاتھ میں اپنی اپنی لاٹھی تھی۔وہ بیان کرتے تھے کہ ہم نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ ایک روشنی ہماری لاٹھیوں سے نکل رہی ہے۔جس میں راستہ دیکھ کر ہم اپنے گھروں میں پہنچے تب وہ روشنی ہم سے جدا ہوگئی۔رسول کریم ﷺہ حضرت اسید بن حضیر کے ان فضائل روحانی کے باعث انہیں دوسروں پر فضیلت دیتے تھے۔(8) خلفائے راشدین کی اطاعت حضرت ابو بکر آپ کا بہت احترام کرتے تھے اور آپ پر کسی دوسرے کو ترجیح نہیں دیتے تھے۔جب حضرت اسید بن حضیر کوئی رائے پیش کرتے تو حضرت ابو بکر صدیق فرماتے کہ اب اس سے اختلاف مناسب نہیں۔اسید بن حضیر کی رائے آگئی ہے۔(9) حضرت عمر آپ کا بہت احترام کرتے اور دیگر انصار پر ان کو ترجیح دیتے تھے۔حضرت ابوبکر کی بیعت خلافت کے موقع پر بھی حضرت اسید نے غیر معمولی اطاعت کا نمونہ دکھایا جب صحابہ سقیفہ بنو ساعدہ جمع ہوئے اور خزرج کے سردار سعد بن عبادہ نے اپنی امارت کی بات کی تو اسید بن حضیر جو اس قبیلے کے سردار تھے اپنے قبیلے کو اکٹھا کر کے کہا کہ دیکھو خزرج والے سعد بن عبادہ کو امیر بناتے ہیں تو بناتے رہیں ہم سب بہر حال حضرت ابوبکر کی بیعت کریں گے۔اوس قبیلہ نے آپ کی آواز پر لبیک کہا اور یوں حضرت ابوبکر کی بیعت خلافت پر امت