سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 336 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 336

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 336 حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ افتراق امت کے نتیجہ میں ہلاکت کی پیشگوئی حضرت خباب کی روایات میں سے ایک اہم روایت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دفعہ بہت لمبی نماز پڑھی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺہ آج معمول سے لمبی نماز آپ نے پڑھی اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور محبت اور رغبت کی نماز بھی تھی اور کچھ خوف اور ڈر کا پہلو بھی اس میں شامل تھا۔چنانچہ آج اس نماز میں میں نے خدا تعالیٰ کے حضور تین دعائیں کی ہیں ان میں سے دو تو اللہ نے قبول کر لیں مگر ایک قبول نہیں کی پہلی دعا یہ کہ میرے مولا میری امت قہر سے ہلاک نہ ہو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کر لی دوسرے میں نے عرض کیا کہ میرے مولا غیر قوموں میں سے دشمن میری امت پر مسلط نہ کیے جائیں۔یہ دعا بھی قبول ہوئی تیسرے میں نے عرض کیا کہ یہ امت فرقوں میں نہ بٹ جائے اور ایک دوسرے کو ہلاک کرنے کے درپے نہ ہو جائے۔مگر یہ دعا قبول نہیں کی گئی۔(8) بد قسمتی سے یہی بدبختی آج مسلم امہ پر ظاہر ہورہی ہے اور ایک مسلمان بھائی دوسرے مسلمان بھائی کا گلا کاٹنے کے درپے ہے۔وفات اور انجام بخیر حضرت خباب کی وفات 37 ہجری میں بعمر تہتر سال کوفہ میں ہوئی۔اہل کوفہ کا دستور تھا کہ شہر کے اندر ہی قبرستان میں اپنے مردے دفن کرتے تھے۔حضرت خباب نے کہا کہ مجھے شہر سے باہر دفن کرنا۔حضرت علی کا زمانہ خلافت تھا۔جنگ صفین سے واپسی پر کوفہ کے باہر چند قبریں دیکھ کر آپ نے پوچھا تو پتہ چلا کہ یہ حضرت خباب کی قبر ہے جو ان کی وصیت کے مطابق کوفے سے باہر بنائی گئی ہے۔حضرت علی خلیفہ راشد نے ان کی نماز جنازہ ادا کی۔(9) اس موقع پر حضرت علی خلیفۃ الرسول نے ان کیلئے جو دعا کی اور جن تعریفی کلمات سے ان کا ذکر کیا اس سے حضرت خباب کی قابل قدر خدمات کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خباب پر رحم کرے۔انہوں نے نہایت رغبت اور محبت کے ساتھ اسلام قبول کیا اور پھر اس