سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 21
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم وفات 21 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت ابو بکر آپ سے اڑھائی قدم آگے بڑھ گئے ہیں۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے ٹھیک اڑھائی سال بعد وہ اپنے آقا سے جاملے۔روایت ہے کہ کھانے میں زہر کے نتیجہ میں ایک سال بیمار رہ کر آپ کی وفات ہوئی۔دوسری روایت میں آخری بیماری کا ایک فوری سبب یہ بھی درج ہے کہ سردی میں ٹھنڈے پانی کے غسل سے بخار ہوا جس کے دو ہفتے بعد آپ کی وفات ہوئی۔وفات کے دن پوچھا آج کونسا دن ہے؟ پیر کا دن تھا۔فرمایا رسول کریم ﷺ نے کب وفات پائی تھی۔بتایا گیا پیر کو چنانچہ آپ بھی پیر کے روز ہی فوت ہوئے۔(46) آپ کی عمر رسول کریم علیہ کی عمر کے مطابق 63 برس ہوئی۔فضائل و خصائل نبی کریم علیہ نے حضرت ابو بکر کو جنت کے سرداروں میں سے قرار دیا۔جیسا کہ ایمان لانے والوں میں آپ سب سے اول ٹھہرے۔نبی کریم ﷺ نے انہیں یہ مژدہ بھی سنایا کہ وہ آپ کی امت میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔(47) حضرت ابو بکر نے سفر ہجرت میں جان کو خطرے میں ڈال کر آنحضور کا ساتھ دیا۔قرآن شریف میں انہیں ”ثانی اثنین کا خطاب دیگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے معیت کی نوید سنائی گئی ہے۔یہ تاریخی معیت خدا کے حضور ایسی مقبول ٹھہری کہ آپ سعادت دارین اور نبی کریم کی دائی معیت کے وارث بن گئے۔آنحضرت نے فرمایا کہ روز قیامت ابوبکر کا حشر بھی میرے پہلو سے ہوگا۔(48) نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر کے بلند روحانی مقام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ابوبکر اس امت کے بہترین اور افضل فرد ہیں سوائے اس کے کہ کوئی نبی پیدا ہو۔“ (49) حضرت بانی جماعت احمدیہ نے حضرت ابوبکر کا مقام بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔" حضرت ابوبکر صدیق کامل عارف، اخلاق کے حلیم اور فطرت کے رحیم تھے۔آپ نے انکساری اور تنہائی کا چولہ زیب تن کیا اور زندگی بسر کی۔آپ بہت عفو، شفقت اور رحمت کرنے والے